بی این ایم کی جانب سے اکتوبر میں ہونے والی شہادتوں اورلاپتہ افراد کی ماہانہ رپورٹ جاری

کوہٹہ(ریپبلکن نیوز)بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات دلمراد بلوچ نے بلوچستان میں پاکستان آرمی ،خفیہ اداروں اور اسکے قائم کئے گئے ڈیتھ اسکواڈکی بربریت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی اکتوبر کی ماہانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماہ اکتوبر میں پاکستانی فورسزو خفیہ اداروں نے ہمیشہ کی طرح اب کے بار بلوچستان بھر میں 154فوجی آپریشن کرکے 57افراد ہلاک کئے۔جن میں 25کو دوران حراست یا ٹارگٹ کر کے شہیدکیا گیاجبکہ32کی نوعیت معلوم نہ ہوسکی۔مہینے بھر میں 269افراد کو حراست بعد لاپتہ کیاگیاجبکہ آپریشن دوران 119گھرلوٹ مار کے بعد نذر آتش کئے گئے ۔اس پورے مہینے میں 24افراد پاکستانی فوج کے اذیت خانوں میں بازیاب ہوگئے ۔بی این ایم کے مرکزی سیکر ٹری انفارمیشن نے اپنے رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ ماہ اکتوبر کی اس رپورٹ کی اعدادو شمار ہم نے اپنے پارٹی ذرائعوں سمیت بلوچستان کے پرنٹ میڈیا ،نیوز ایجنسیز( آن لائن ، این این آئی )سے حاصل کئے ہیں جو ریکارڈ پر موجود ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ عالمی انسانی حقوق کے اداروں اورپاکستانی میڈیاکی مجرمانہ خاموشی کی وجہ سے پاکستانی فورسز و خفیہ ادارے اب دیدہ دلیری کیساتھ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں ۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بی این ایم کی جانب سے ہر مہینہ انسانی حقوق خلاف ورزیوں کی رپورٹ کے اجراء کا مقصد بلوچستان میں پاکستانی فورسزو خفیہ اداروں کی جرائم کو آشکار کرنا ہے لیکن پاکستانی کنٹرول میڈیا ان رپورٹوں کو جعلی قرار دیکر دباتی ہے جو درست عمل نہیں جبکہ اگر کوئی تحقیقی رپورٹر ان واقعات کا جائزہ لے اور تحقیق کرے تو ایک بھیانک سچ ان کے سامنے آجائے گا۔دلمرادبلوچ نے عالمی انسانی حقوق اداروں اورمیڈیا سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وہ بلوچستان میں پاکستانی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی ورزیوں کے تحقیق کیلئے ایک کمیشن بناکر بلوچستان بھیجیں تاکہ بلوچستان کوایک سنگیں انسانی بحران سے بچایا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ ہر مہینے سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں کو لاپتہ کرنا اور بعد ازاں ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنا بلوچ قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا ایک سنگین جرم ہے جسے پاکستانی فورسز ایک کھیل کی صورت میں انجوائے کر رہے ہیں۔ ماہ اکتوبرکی واقعات کی تفصیلات روزنامچہ کی ترتیب میں دیئے جارہے ہیں تاکہ سند رہے ۔ یکم اکتوبر کو دشت کمبیل ضلع کیچ سے تین طلباء نعیم ولد ایوب ، اعظم ولد حاجی عبدالرحمان ، نعیم ولد حاجی عبدالعزیز کو فورسز نے اغوا کیا۔ مند سے ایک شخص کو حراست بعدلاپتہ کیا گیاجس کی شناخت نہ ہوسکی۔2 اکتوبرکواوڑماڑہ ضلع گودار سے پیر محمد کلمتی نامی ایک شخص کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی جسے چار مہینے پہلے ملیر کراچی سے فورسز نے اغوا کیا تھا۔ ڈیرہ بگٹی،تربت اورقلات میں فورسزنے آپریشن کرکے متعدد افرادکولاپتہ کیا۔سامی میں قلات کے رہائشی جمعہ خان نامی شخص کوفائرنگ سے ہلاک کیا گیا۔3 اکتوبر کوعزیز ولد گل محمد کو تمپ باکیچ ، رودبن سے اغوا کیا گیا۔ ماشکیل میں ایرانی فورسز کی فائرنگ سے دو افراد زخمی ہوئے ۔آواران میں فورسز نے تین لاشیں ہسپتال منتقل کر دیں،صرف ایک کی شناخت، اختر ولد زباد،سکنہ آبسر کیچ سے ہوئی۔4 اکتوبرکوخیر آباد کیچ کے رہائشی جلال ولد ولی محمد جو 31 اگست کو اغوا ہوئے تھے، رہا ہوئے۔ کوئٹہ میں فورسزنے آپریشن کرکے19 افراد لاپتہ کئے۔کرخ میں گل محمد موسیانی نامی شخص کی لاش گھر کے سامنے برآمدکی گئی۔مستونگ میں مسلح افرادنے فائرنگ کرکے فدا حسین ولد رحم دل نامی شخص کوہلاک کیا۔گور کوپ پیدارک کیچ ضلع سے بی ایس او آزاد کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شبیر بلوچ کوفورسز نے حراست میں لیکر لاپتہ کیا۔ ساتھ ہی رئیس یوسف ولد بھائیان ماہیگیر، کہور ولد بابل طالب علم، اورامیتان ولد فقیر کسان، بہار ولد رمضان ٹیچر، واحد بخش ولد عرض محمد اور ٹاپی ولد شہداد کو بھی اغوا کرکے لاپتہ کیاگیا۔ 5 اکتوبرکوپیدارک،ہیرونک اور تجابان میں فورسزنے آبادیوں پر حملہ کرکے کئی افرادکو حراست بعد لاپتہ کیا۔کولواہ میں فورسز نے آپریشن کرکے کئی افرادکو لاپتہ کیا۔ آواران میں فورسزکے آپریشن سے بی ایس او آزاد مشکے زون کے آرگنائزحاصل بلوچ ،اللہ بخش اور انور عرف فدا جان کوشہیدکیا گیا۔کولواہ بلور سے ہاشم ولد چارشمبے، راشد ولد مراد، زبیر ولد نبی داد، حسن ولد کریم بخش، حسن ولد کیچو، ناگمان ولد کیچو، اور گریشہ ضلع خضدار سے سفر خان ولد محمد خان کو فوج نے حراست بعد لاپتہ کیا۔ 6 اکتوبر کوپنجگورپروم میں فورسزنے دِز میں حاجی عبدالسلام،حاجی نور بخش اور حاجی ابراہیم کے گھروں پر حملہ کرکے لوٹ مارکی اور ثناہ اللہ ولد حاجی نور بخش کو حراست کے بعد لاپتہ کیا۔ڈیرہ بگٹی سنگسیلہ سے فورسز نے کرم خان بگٹی، گہرام بگٹی، شاہ علی بگٹی، شیر دل بگٹی، گچک پنجگور سے ایوب خیرجان اور ناصر کوحراست بعد کیا ۔ تمپ میں گیراج سے مستری لطیف نامی شخص کو لاپتہ جبکہ غلام رسول نامی شخص قتل کیا گیا۔کیچ،کولواہ،ناگ میں فورسز نے زمینی و فضائی آپریشن کرکے بمباری کی جبکہ،کئی افراد کوحراست بعدلاپتہ کیا گیا۔7 اکتوبرکومیرانی ڈیم دشت کے رہائشی یاسر ولد عام ربازیاب ہوئے۔ پروم پنجگور کے صدام ولدحاجی نذیر کو کوئٹہ جاتے ہوئے اور ہیرونک سے قادر بخش ولد توکل کو اغوا کیا گیا۔ ڈیتھ اسکواڈ کی فائررنگ سے گیاب مند ضلع کیچ میں برکت ولد دوست محمد شہید ہوئے۔پنجگور تسپ میں مسلح افراد کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوئے جن کی شناخت نہ ہوسکی۔ 8 اکتوبرکوحب چوکی موچکو چیک پوسٹ سے تمپ کے رہائشی یونس ولد مراد کو حراست میں لینے کے بعدلاپتہ کیا گیا۔ پنجگور و ڈیرہ بگٹی میں فورسز نے آپریشن کرکے متعدد افرادکو لاپتہ کیا۔9 اکتوبرکو بھاگ میں فائرنگ سے دو بھائی ایڈوکیٹ احمد بلیدی اور حبداد علی ہلاک ہوئے،وجہ معلوم نہ ہو سکی۔تربت میں مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوا۔تمپ میں فورسز نے ایک شخص کوحراست بعد لاپتہ کیا۔10 اکتوبرکو8 جولائی کو پروم پنجگور سے اغوا ہونے والے عطاالرحمن ، آپسر تربت سے اغوا ہونے والا دلجان ولد بہرام بازیاب ہوگئے ۔ پنجگور بونستان میں نامعلوم مسلح افرادنے فائرنگ کرکے عوض ولد سبزل نامی شخص کوہلاک کیا۔ تمپ میں صغیر نامی شخص کوہلاک جبکہ اللہ بخش نامی شخص کواغوا کیا گیا۔11 اکتوبرکو پنجگور مین بازار سے عالم ولد سید محمدنامی شکص کو اغواکیا گیا ۔ کوئٹہ میں فورسز نے آپریشن کرکے تین افراد کو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔14 اکتوبرکوکوہاڑ تمپ سے سید ولد عبدالمجیداور پُل آباد تمپ سے اصغر نامی دوافرادکواغواکیا گیا۔ فورسز نے آواران کے مختلف علاقوں ،زیلگ،پیراندراوراعظم گوٹھ میں فوجی آپریشن کرکے لوٹ مار کے ساتھ تمام گھروں کا صفایا کر دیااور کئی افراد حراست بعد لاپتہ کیا۔15 اکتوبرکومشکے سے اغوا ہونے والا جمعہ ولد دلمراد بازیاب ہوگئے۔ قلات جوہان سے ایک لاش برآمدکی گئی،جس کی شناخت نہ ہو سکی۔پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے جلیل بلوچ شہیدہوئے۔کوئٹہ میں کومبنگ آپریشن جاری رہا،11 افرادکو حراست بعد لاپتہ کیا گیا۔پسنی میں فائرنگ سے لعل بخش نامی شخص ہلاک کو کیا گیا۔اوستہ محمد فائرنگ سے حاکم نامی شخص کوہلاک کیا گیا۔16 اکتوبرکومند گوبرمیں فورسزنے آپریشن کرکے11 افرادکو حراست بعد لاپتہ کیا،جن میں چند کی شناخت زاہد،نصیر،دلجان اورمجیب کے ناموں کی ہوئی۔کوئٹہ میں فائرنگ سے عطااللہ نامی شخص ہلاک ہوا۔کیچ کے علاقے میں ایک لاش برآمدہوئی جس کی شناخت سلمان ولدفتح محمد کے نام سے ہوئی۔بالیچہ میں فورسزنے فائرنگ کرکے وراث بلوچ کوشہید کیا۔مند سورومیں فورسز کی فائرنگ سے وحید نامی شخص ہلاک ہوا۔سکگ کولواہ میں ضلع کیچ کے رہائشی لطیف ولد مقصود جسے فورسز نے پانچ اکتوبر کو اغوا کیاتھا، کی لاش آبسر کیچ سے برآمد ہوئی۔ 17 اکتوبرکوتین سال قبل اغوا ہونے ولا قمبر ولد صفدروشبود کے رہائشی بازیاب ہوگئے ۔ قلات ناگی سے مبارک ولد جانا بگٹی اغوا ہوئے۔ گوبرد مند سے حبیب ولد دین محمد کواغوا کیا گیا۔ نصیر آباد میںآپریشن سے ایک شخص کی لاش برآمدہوئی جس کی شناخت لالو بگٹی کے نام سے ہوئی ہے۔نصیر آباد آپریشن میں مبارک بگٹی کو فورسز نے پورے خاندان کے ساتھ لاپتہ کر دیا۔نصیر آباد میںآپریشن سے تین افراد کی لاشیں برآمدہوئیں جن کی شناخت محمد علی ولد لوٹی بگٹی،ماہلی بنت لوٹی بگٹی، نوزانو ولد کریمو بگٹی کے ناموں سے کی گئی۔18 اکتوبرکودو مہینے قبل گوادر سے اغوا ہونے والادشت کیچ کے رہائشی فرحان ولد یوسف بازیاب ہوگئے ۔ڈیرہ بگٹی میںآپریشن سے غلام علی ولد لوٹی بگٹی، للی ولد لوٹی بگٹی، اور محمود ولد گوسو بگٹی کو ہلاک کیا گیا۔ مند،بالگتراور سبی میں فوجی آپریشن جاری رہا ،کئی گھر نذر آتش کئے گئے۔مند میں فورسز نے یوسف مالدار کے گھر نذر آتش کر دئیے،اورمحمد حسن ،دین محمد نامی دو افراد کو حراست بعدلاپتہ کیا۔بالگتر کے علاقے گڈکی میں فوجی آپریشن میں گھروں میں لوٹ مارکے بعد کئی افرادکو لاپتہ کیا۔آواران پیراندر،زوندان پہاڑی سلسلوں میں پاکستانی فوج نے بمباری کی۔مشکے کوہ سفید میں فورسز نے آبادی پر حملہ کرکے گھروں میں لوٹ مار بعد تمام گھر نذر آتش کئے۔19 اکتوبرکو14جولائی 2014 کو اغواہونے والاپنجگور پروم کا رہائشی سلال ولد ادریس ، تسپ پنجگور کا شہداد ولد خان محمداور سلیم ولد دوست محمد باززیاب ہوگئے۔ 15 ستمبر2015 کو دشت کا رہائشی گوادر سے اغوا ہونے عارف ولد صدیق بازیاب ہوگئے ۔ 3 مارچ2016 کو اغوا ہونے والاماجد ولد مراد بخش گوادر سے بازیاب ہوگئے ۔ گرمکان پنجگور سے اغوا ہونے والا خادم ولد قادر بخش، عطا محمد، وارث، محمد یعقوب، شاکربازیاب ہوگئے جبکہ ثنااللہ ولد محمد شریف نامی شخص کواغوا کیا گیا۔ کوہستان مری ،سبی ڈیرہ بگٹی میں فورسزنے زمینی و فضائی آپریشن کرکے درجنوں دیہاتوں میں لوٹ مارکی اورکئی کوافرادحراست بعد لاپتہ کیا گیا۔گومازی میں فورسز کی فائرنگ سے حاتم ولد شیر دل شہید ہوئے۔آواران پیر اندر کُچھ آبادی پر فورسزنے حملہ کرکے بیس سے زائدافراد لاپتہ کئے۔پاکستانی فوج نے آواران پیراندر کے علاقے کُچھ میں آبادی پر دھاوا بول کر گھروں میں لوٹ مار کے ساتھ خواتین و بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور تمام گھروں کے دروازے بھی اکھاڑ کر اپنے ساتھ لے جانے کے ساتھ وہاں میں بیس سے زائد افراد جس میں نوجوان،بزرگ شامل ہیں حراست بعد لاپتہ کر دئیے ، لاپتہ کیے جانے والے افراد میں سے کچھ کی شناخت دوستا ولد نمبو،پیر بخش ولد ملک داد،عارف ولد کریم بخش،شعیب ولد اختر، ملا سبزل ولد دارو، سادی ولد عید،سعید ولد صوالی،فاضل ولد رحیم بخش،جمعہ ولد نور محمد،برکت ولد نور محمد، حسن ولد بادار، رحیم بخش ولد احمد، نیکی ولد بجارکے نماوں سے کی گئی۔جبکہ فورسز نے تین لیویز اہلکاروں نور بخش ولد حسن،نوار غالب اور حسن کو بھی تشدد بھی لاپتہ کر دیا۔گومازئی کیچ سے سلام ولد علی ، مسلم ولد عبدالکریم ، شاہ در ولد اسماعیل اور لیاقت ولد نذر محمد اغوا کیا گیا۔ دشت سیدان میں فوج نے پینے کے پانی پر قبضہ کیا جس پرمکینوں نے شدید احتجاج کیا۔20 اکتوبرکوبالگتر اور ہوشاپ میں فورسزنے آبادیوں پر حملہ کرکے کئی افراد کو لاپتہ کیا۔جھاؤ کے علاقے لال بازار سے پاکستانی فوج نے تین افراد کو لاپتہ کر دیا،جنکی شناخت انور ولد موسی،عبدالباقی ولد قدیر بخش،نذیر احمد ولد قادر بخش کے ناموں سے ہوئیں۔دشت سے بشیر نامی شخص کواغوا کیا گیا ۔ ناگمان ولد محمد جلال بازیاب ہوگئے جو دو مہینے پہلے اغوا ہوا تھا۔ تمپ میں فورسزنے آپریشن کرکے،گھر گھر تلاشی لی،خواتین و بچوں پر تشدد کیا۔اصغر ولد نواب نامی شخص کو حراست بعد لاپتہ کر دیا گیا۔21 اکتوبرکوگوادر شمبے اسماعیل میتگ سے کمبیل دشت کے رہائشی سلیم ولد مجید اور عبدالرسول ولد مجیدنامی دو افرادکو اغوا کیا گیا۔ آواران بزداد سے فتح محمد ولد نودی اور دولت نودی نامی شخص کواغوا کیا گیا۔ بیرونٹ کیلکور بالگتر ضلع کیچ سے نواب ولد دین محمد، علی جا ن ولد محمد عثمان، حاتر ولد عیسیٰ، قادر ولد بیداد، نبی بخش ولد بیداد، ااور عباس کو اغواکیا گیا ، جبکہ مشکے گجر سے شیرانامی شخص کو اغوا کیا گیا۔ 27نومبر2013 کو اغوا ہونے والا وکیل حیدر کے بی بازیاب ہوگئے ۔ 15 اکتوبر 2016 کو اغوا ہونے والے ولید ولد ناصر، دلاور ھاجی کریم ، احمد ولد مراد، اکبر ولد رشید، مجیب ولد لطیف بازیاب ہوگئے۔ پنجگور کے علاقے تسپ سے لاش برآمد،شناخت اکبر ولد جان سے ہوئی،وجہ معلوم نہ ہو سکا۔گومازی میں فورسز نے آپریشن کرکے گھروں میں لوٹ مار کی۔بلیدہ میں راجب ولد عباس نامی شخص کی لاش برآمد ہوئی۔منیر بلوچ راغے میں فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہونے کے بعد شہید ہو گئے۔22 اکتوبرکوقلات کے علاقے ناگاہی سے تین افراد کی مسخ لاشیں برآمدہوئیں، جن کی شناخت صوفی مری، سفیر بلوچ،ثناہ اللہ مری کے نماوں سے کی گئیں، جنہیں پانچ اپریل کو فوجی آپریشن میں اغوا کیا گیا تھا۔ نصیر آباد سے اسلام ولد گلزار رند، سندرولد علی مرا رند، گل شیر ولد معروف رند، اور ہوشاپ ضلع کیچ سے داد رحمان کو اغوا کیا گیا۔ ڈیرہ بگٹی سے متصل گیاندی میں آپریشن بعد لاپتہ خاتون کی لاش برآمد ہوئی جن کی شناخت سمی بگٹی کے نام سے ہوئی۔واضح رہے کہ شہید سمی بگٹی کے خاوند پابندی بگٹی اور اسکے بیٹے کو گزشتہ ماہ فورسز نے آپریشن میں شہید کیا تھا۔خمار بلوچ ڈپٹی آرگنائزر بی ایس اوآزاد جھاؤ کو ڈیتھ اسکواڈ و مذہبی شدت پسندوں نے قتل کیا ۔ بلیدہ چب کا رہائشی کنر ولد حبشی کوفائرنگ سے ہلاک کیا گیا۔چاغی میں فائرنگ سے موسیٰ نامی شخص ہلاک ہوا۔بالگتر کیل کورمیں فورسزنے مختلف علاقوں ،بیروٹ ،کرکی،ہالی ریک، دسبندان،ریک نوم سے6 افرادکو لاپتہ کیا۔جن کی شناخت یاتر ولد عباس،علی جان ولد محمد عثمان،یاتر ولد عیسی،نبی بخش ولد روادنواب ولد محمد دین کے نماوں سے کی گئیں۔لہڑی میں فوجی آپریشن سے دو افراد لاپتہ کو حراست بعد لاپتہ کیا گیا جن کی شناخت نہ ہوسکی۔24 اکتوبر کوبالگتر کیلکور میںآپریشن سے علی بخش ولد داد رحیم نامی شخص کو قتل کیاگیا۔ درچکو دشت سے مراد بخش ولد فقیر، جیونی گوادر سے جاوید ولد شئے اکبر، ظہیر ولد شئے محمد، اور حسن رندکو اغوا کیا گیا۔ 25 اکتوبرکوگچک میں پاکستانی فورسز نے آپریشن کرکے تیرہ افرادکو حراست بعد لاپتہ کیا۔جن میں چند کی شناخت ظہور ولد نور بخش،عارف ولد بجار،وحید ولد قادر بخش،واحد ولد رحمت کے ناموں سے ہوئی جبکہ کئی گھر لوٹ مار بعد نذر آتش کئے گئے۔تمپ میں فائرنگ سے مجید نامی شخص ہلاک ہوا۔گومازی میں نصیر نامی شخص کواغوا کیا گیا۔سوراب میں نعمت اللہ نامی شخص کوفائرنگ سے ہلاک کیا گیا۔تمپ ناصر آباد میں فورسز نے ایک شخص کو لاپتہ کر دیاجس کی شناخت نہ ہوسکی۔ ڈیرہ بگٹی میں فائرنگ سے ایک بچی ہلاک ہوئی ۔27 اکتوبرکومند لبنان میں موسیٰ ولد عیسیٰ کو پاکستانی ڈیتھ اسکواڈ نے قتل کیا۔ 28 اکتوبرکومچی مالار آواران سے الٰہی بخش ولد پنڈوک، دلی ولد لمبو، جمال ولد سید، اور دو شمبے نامی 4افراد کو اغوا کیا گیا۔ پنجگور و کوئٹہ میں فورسزنے آپریشن کرکے کئی افرادکو لاپتہ کیا۔کوئٹہ میں فورسزکے مبینہ جھڑپ میں 4 ہلاک ہوئے۔29 اکتوبر کوتمپ کونشقلات سے مزیر ولد عبدالرحمان ، شبیر ولد دُراسمیت ایک ٹیچر کواغوا کیا گیا۔بل نگور دشت سے اجیب ولد محمد بخش، محبوب ولد غلام نگوری کو اغوا کیا گیا۔ خاران،قلات،نوشکی،کوہلو اورآواران میں پاکستانی فوج نے سی پیک سے منسلک روڈ اورگرد نواح میں زمینی و فضائی آپریشن کرکے38 افراد کولاپتہ کیاجبکہ درجنوں گھر لوٹ مار بعد نذر آتش کئے۔آواران کے مختلف علاقوں میں فوج نے زمینی و فضائی آپریشن کیا۔5 پاکستانی گن شپ ہیلی کاپٹروں سمیت جنگی جہازوں نے تیرتیج، بزداد، گندہ چاہی، ،گڑوپ میں بمباری کی ۔30 اکتوبرکوآوارا ن کولوارہ چبی و ریک چاہی آپریشن میں دلاورولد امام بخش، حاصل خان ولد غلام محمد، نصیر احمد ولد اسحق، حکیم ، یار محمد، نویدولد لطیف، حلیف ولد علی بخش، ارشد لود ،موسیٰ، سدھیر ولد محمدجان ، رمضان ولد رنگو اور حمل ولد رنگوکو اغوا کیا گیا۔ آواران میں فورسز نے چار افراد کو بازار سے حراست بعد لاپتہ کر دیا۔وڈھ میں ڈیتھ اسکواڈ کے فائرنگ سے نصیب اللہ ولد اسماعیل نامی شخص زخمی ہوگئے۔ڈیرہ مراد جمالی میں ایک نوجوان کی لاش برآمد ہوئی جس کی شناخت نہ ہوسکی۔کوئٹہ اوردالبندین میں کومبنگ آپریشن سے 10 افراد کوگرفتارکرنے کے بعد لاپتہ کیا۔قلات اورخاران میں فورسزنے آپریشن کرکے درجنوں گھر لوٹ مار بعد نذر آتش کئے جبکہ 4 افرادکو لاپتہ کیا۔31 اکتوبر کوآواران،سبی،ڈیرہ بگٹی میں فورسز نے آپریشن میں جنگی ہیلی کاپٹر استعمال کیے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker