گوادر میں لاپتہ افراد کو قتل کیا گیا ہے۔بی ایس او آزاد

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے گزشتہ روز گوادر میں لاپتہ بلوچ نوجوانوں کی قتل اور انہیں مقابلے میں مارنے کے فورسز کی بیان کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ فورسز اپنی من گھڑت بیانات سے حقائق کو چھپانے کی ناکام کوشش کررہی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ چاروں لاپتہ فرزندان گزشتہ کئی سالوں سے فورسز کی تحویل میں موجود تھے، جن میں 25مارچ2013کو کوئٹہ سے اغواء ہونے والے مشکے کے رہائشی اور بلوچستان یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ صلاح الدین شاہوانی، 31جنوری 2013کو اغواء ہونے والے پسنی کے رہائشی ساجد بلوچ اور 2014کو اغواء ہونے والے صابر بلوچ اور 13اگست 2016کو اغواء ہونے والے دشت کے رہائشی ظفرولد ماسٹر عبدالرحمان شامل ہیں۔ ان مقتولوں کی شناخت جیبوں سے برآمد ہونے والی پرچیوں، اسٹوڈنٹ کارڈ اور شناختی کارڈ کے ذریعے کی گئی۔ ترجمان نے کہا کہ بی ایس او آزاد سمیت بلوچستان میں متحرک سیاسی پارٹیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ پاکستانی فورسز کی تحویل میں موجود سیاسی کارکنان کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں، ایک عرصے سے فورسز مارو اور پھینکوپالیسی کے تحت لاپتہ فرزندوں کو قتل کرکے انہیں مذاحمت کار قرار دینے کا جھوٹا دعویٰ کررہے ہیں۔ حالانکہ گزشتہ روز قتل ہونے والے چاروں فرزندوں کے اغواء کی تفصیلات ایک سے زیادہ مرتبہ میڈیا میں شائع ہوچکی ہے۔ بی ایس او آزاد کے ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں فورسز کی بربریت انتہائی حد تک بڑھ چکی ہے، نہتے عوام ، خواتین و بچوں کو حراساں کرنا، گھروں کو نظر آتش کرنا اور عام لوگوں کا قتل اس صورت حال کو انتہائی گھمبئیر بنا چکے ہیں۔ عالمی ادارے بلوچستان میں آباد لاکھوں نہتے بلوچوں کومسلح قابض فورسز کی رحم و کرم پر چھوڑ کر اپنی زمہ داریوں سے روگردانی کررہے ہیں۔ گزشتہ چار دنوں سے چائنا پاکستان کے درمیان بننے والی نام نہاد اقتصادی راہ داری کے ملحقہ علاقوں میں فورسز کی گن شپ ہیلی کاپٹرز اور زمینی فورسز آپریشن میں مصروف ہیں۔آواران، کیچ اور گوادر سے ملحقہ دشت کے مختلف علاقوں میں جا ری ان آپریشنوں کے دوران متعدد لوگوں کے اغواء کی اطلاعات ہیں۔ بی ایس او آزاد نے انصاف کے عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ بلوچ نسل کشی میں مصروف ریاستی فورسز کے جنگی جرائم کا نوٹس لیکر بلوچ مسئلے کے حل اور لاپتہ افراد کی بحفاظت بازیابی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔-

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker