عام انتخابات کے قریب آتے ہی بلوچستان میں مزاحمتکاروں کے جعلی سرنڈر کا ڈرامہ شروع۔ ریپبلکن رپورٹ

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز) پاکستان میں عام انتخابات کے قریب آتے ہی بلوچستان میں ایک بار پھر سے سرنڈر کا بازار گرم ہوچکا ہے، ریاستی اداروں کا کہنا ہے کہ 100 سے زاہد بلوچ آزادی پسند مزاحمتکاروں نے ہتیار پھینک کر پاکستان کے قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔

ریاستی اداروں نے دعوہ کیا ہے کہ بلوچستان کے ضلع آوران اور خضدار میں 100 سے زاہد بلوچ آزادی مزاحمتکاروں نے پاکستانی پیرا ملٹری فورسز کے کیمپ میں کمشنر قلات ڈویژن محمد ہاشم گلزئی اور ایف سی سیکٹر کمانڈر ساوتھ برگیڈئر راحت ملک سامنے ہتیار ڈال کر پاکستانی قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔

پاکستانی عسکری ادارے شروع دن سے یہ کہتے آئے ہیں کہ بلوچستان میں آزادی پسند مزاحمتکاروں (سرمچاروں) کی تعداد مٹی بھر ہے جبکہ گزشتہ کچھ سالوں کے سرنڈر شدہ مزاحمتکاروں کے اگر اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو انکی تعداد ہزاروں میں ہے۔

بلوچستان کے سابقہ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک نے خود یہ اعتراف کیا ہے کہ بلوچستان میں عام انتخابات کے لیے ماحول بالکل سازگار نہیں ہے اور اگر ان حالات میں انتخابات کیے جاتے ہیں تو بڑے پیمانے پر نقصانات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

 

جبکہ اتنی بڑی تعداد میں مزاحمتکاروں کے سرنڈر ہونے کے باوجود بھی بلوچ قومی تحریک پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں، جس سے اندازه لگایا جاسکتا ہے کہ ریاستی بیانیہ محض جھوٹ اور ریاستی پروپیگنڈہ کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ بلوچستان میں گنے چنے لوگوں نے ہتیار ضرور ڈالے ہیں لیکن جو تعداد ریاستی عسکری اداروں کی جانب سے مہیا کی جاتی ہے وہ محض ریاستی پروپیگنڈہ ہے۔

شعوریافتہ طبقہ اور بلوچ قوم اب ریاستی جھوٹے دعووں اور پروپیگنڈوں سے بخوبی واقف ہوچکے ہیں، اب پاکستانی عسکری اداروں کے جھوٹی بیانات اور سرنڈر کا ڈرامہ بُری طرح ناکام ہوچکا ہے۔ لیکن پھر بھی ریاستی ادارے عالمی دنیا کو بے وقوف بنانے کے لیے وقتاََ فوقتاََ مزاحمتکاروں کے جھوٹے سرنڈر کا ڈرامہ ترتیب دیتے ہیں۔

مزید رپورٹس:

 لاشیں اٹھانے سے بہتر ہے آواز اٹھایا جائے۔ جلیلہ حیدر

ایک ایسی خاتون جس نے اپنی زندگی بلوچستان میں تعلیم عام کرنے میں لگا دی لیکن!

صغیر بلوچ کی جبری گمشدگی کے بعد میرے گھر والے شدید پریشانی میں مبتلہ ہیں۔ حمیدہ بلوچ

بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کی کاروائیاں بلوچستان بھر میں اپنی تسلسل کے ساتھ جاری ہیں، اور بلوچ مزاحمتکاروں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں پر کام کرنے والے اہلکاروں پر متعدد کامیاب حملے کرتے ہوئے ریاستی اداروں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔

ان حملوں میں عسکری اداروں کو جانی نقصانات کے ساتھ ساتھ مالی نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑرہا ہے، کیونکہ آزادی پسند بلوچ مزاحمتکاروں کے حملوں میں سی پیک منصوبوں میں تعمیر کیے گئے تنصیات کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے 11 مئی 2013 کے عام انتخابات میں بلوچستان میں ووٹ کی شرح 3 فیصد تھی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ بلوچستان کے 97 فیصد لوگ پاکستانی ریاست سے بیزار ہوچکے ہیں اور بلوچ آزادی پسند جماعتوں کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔

بلوچستان میں گزشتہ عام انتخابات کی بُری طرح ناکامی کے بعد ریاستی عسکری اداروں نے اپنے کٹ پتلیوں کے ساتھ مل کر بلوچستان بھر میں خونی آپریشن کو مزید وسعت دیتے ہوئے بلوچ قوم کی نسل کشی کو تیز تر کردیا، اور بلوچستان بھر میں ماورائے عدالت گرفتاریوں کا سلسلہ بھی تیز کیا گیا اور لاشیں بھی گرانا بھی تیز کیا گیا تاکہ 2018 کے عام انتخابات تک بلوچستان میں اتخابات کے لیے ماحول کو سازگار بنایا جاسکے اور لوگوں کو ووٹ ڈالنے پر مجبور کیا جاسکے۔

لیکن حال ہی میں بلوچستان کے سابقہ وزیرِاعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک نے خود یہ اعتراف کیا ہے کہ بلوچستان میں عام انتخابات کے لیے ماحول بالکل سازگار نہیں ہے اور اگر ان حالات میں انتخابات کیے جاتے ہیں تو بڑے پیمانے پر نقصانات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اور بلوچ ریپبلکن گارڈز نامی آزادی پسند مسلح تنظیموں نے بلوچستان میں عام انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے، اور امید ظاہر کی جارہی ہے کہ تقریباََ تمام آزادی پسند مسلح و غیر مسلح تنظیمیں بلوچستان میں عام انتخابات کا بائیکات کر سکتی ہیں۔ کیونکہ گزشتہ کئی سالوں سے تمام آزادی پسند سیاسی و مسلح تنظیمیں بلوچستان میں عام انتخابات کا بائیکاٹ کرتے رہے ہیں۔

 

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close