"تربت ریلی پاکستان نوازوں کا دیرینہ خواہش”

تحریر : میرین بلوچ
Article7کوئٹہ ( ری پبلکن نیوز ) 10 دسمبر 2010 کو کراچی ملیر میں BSO آزاد کے ایک سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے شہید قندیل صبا ء دشتیاری نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا وہ آج حقیقت کے روپ دھار کر عملی طور پر کام کر رہے ہیں ۔کل تربت شہید فداء چوک پر جن پانچ بلوچ آفیسران کے اہلخانوں کے نام پر پارلیمانی مریدوں نے ریلی کا اہتمام کیا تھا اس ریلی کے پیچھے چھپے کالے کرتوت اس وقت قوم کے سامنے آشکار ہوگئے جب پاکستانی آرمی کے سادہ وردی میں ملبوس اہلکار پاکستانی جھنڈا لیئے فدا چوک پر فوجی ٹرکوں سے آئے۔ جس سے ہر ذی شعور بلوچ نے سمجھ لیا کیا کہ یہ ریلی آرمی کے زیر اہتمام ہورہا ہے اور ایڈورٹائزصرف متعلقہ خاندان ہورہے ہیں۔ مگر یہاں اس امر کی وضاحت لازمی ہے کہ اس ریلی میں متاثرہ خاندانوں کا ایک فرد بھی شامل نہیں تھا اور دور دور تک ان کا اس ریلی سے واسطہ بھی نہیں تھا یہ ممکن ہے کہ اس ریلی میں متاثرہ خاندانوں کے دور دراز کے رشتہ دار جو ریاستی کاسہ لیسی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں شامل تھے۔ مگر ان کا بنیادی خواہش متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی سے زیادہ حاکم وقت سے اپنے وفاداریاں تھی۔یہ اچھا ہوا کہ مہرباں کو آتے آتے وقت لگ گیا اور ان متاثرہ خاندانوں کے سامنے ان کی پول بھی کھل گئی کہ آپریشن کے دوسرے دن انہی پانچ افراد کے لواحقین نے انہی پارلیمانی باجگزاروں سے منتیں کی اپنے آقاؤں سے آپریشن رکوانے کی درخواست کریں مگر شاید اس وقت ان کی یہ ہمدردانہ سوچ ان کے ساتھ کیچ کے گرمی میں کسی AC والے کمرے میں خراٹے لے رہی تھی۔صرف یہاں تک نہیں ان کے ریلی کے بینرز اور پلے کارڈز پر بھی کوئی ایسا جملہ نہ تھا جس سے ہم یہ اخذ کرسکیں کہ یہ ریلی ان متاثرین سے اظہار یکجہتی تھی۔بلکہ یہ بینرز اور پلے کارڈ بلوچ قومپرستوں مزاحمتی قوتوں کے ساتھ ساتھ سیاسی قوتوں کو عالمی سطح پر ہشتگرد قراردینے کی سماجتیں کررہے تھے۔یہ التجا نہ ان متاثرہ خاندانوں کی تھی نہ ریلی میں بزور طاقت شامل کیئے جانے بلوچوں کی تھی بلکہ یہ خواہش سفید پردوں کے پیچھے بیٹھے ہوئے ان کالے آقاؤں کی تھی جو شروع دن سے بلوچ تحریک کے خلاف میڈیا اور عالمی دنیا کے سامنے زہر اگل رہے تھے اور اس دفعہ شہید فدا چوک پر انہی پارلیمانی باجگزاروں کی زبان سے اگُل وا رہے تھے۔ NP جس کے ذمہ داران اور ارکان جو اس ریلی کے منتظمین میں سے تھے ان سے کیچ کا با شعور عوام اچھی طرح واقف ہے کیونکہ اسی کیچ کے باسیوں نے شہید فدا کی شہادت کے بعد سے لیکر اب تک نیشنل پارٹی کو صرف ایک قاتلوں,ڈرگز ڈیلروں اور لینڈ مافیا کے گروہ کی حیثیت سے دیکھا ہے۔انہی باسیوں نے کمبر چاکر,الیاس نزر,طارق عیسیٰ, جمیل یعقوب,حامد اسماعیل,سہیب بلوچ,عقیل بلوچ,نوروز باقر, جہانزیب بلوچ جنید بلوچ, موسیٰ جان اور حلیم دشتی جیسے نوجوانوں کے لاشوں کو کندھا دیا ہے جنہیں NP کے اشارے پر ریاست نے شہید کیا مگر اس وقت ان لاشوں کو کاندھا دینے کیلئے نہ NP والے تھے عوامی اور دوسرے تیسرے کیونکہ وہ بلوچ قوم کے شروع دن سے ہمدرد ہی نہیں تھے اور اسی دن قوم کو معلوم ہوا تھا یہ قوم پرست نہیں بلکہ پیٹ پرست ہیں۔ کیونکہ انہی این پی والوں نے اپنے کرسی کی خاطر فدا چوک سے کچھ فاصلے پر ڈیلٹا سنٹر جیسے تعلیمی اداروں پر چھاپے لگواکر ان کو سیل کیا اور ڈگری کالج کی لائبریری سے کتابیں ہٹوائی۔ مگر آج جب انہیں نیب کی جانب کرپشن کے کیسوں کا سامنا ہے تو انہیں وفاداریاں دکھانے پڑیں گے تا کہ نام نہاد نیبی احتساب سے اپنے آپ کو بچا سکیں اور اس اتفاقیہ حادثے کو ویل چیئر بنا کر اپنے لولی لنگڑی اعتماد کو ایک بار پھر اپنے آقاؤں کے سامنے بحال کرسکیں۔مگر آج 73 کے حالات نہیں ہیں آج سب کچھ قوم کے سامنے ہورہا ہے چاہے ۔ساہجی جیسے اتفاقیہ حادثے یا Np اور اس کے آقاؤں کی جانب سے بلوچوں کو دیئے گئے مسخ شدہ لاشیں اور اجتماعی قبریں ان کا فیصلہ آنے والے کل میں قوم کرے گی۔ مگر یہ قوم بجار جیسے چہروں کو ابھی نہیں بھولا ہے جنہوں شہید رھبر غلام محمد کی شھادت کے بعد بی این ایم سے قربت اختیار کی اور دال نہ اگلنے کی صورت میں پارلیمانی پارٹیوں کی گود میں پناہ ڈھونڈی اور عسکری بینک سے کروڑوں کی کرپشن کو آج وفاداری کے پیچھے چھپانے کی درپے ہیں۔ اور وہ سراج بشیر جو ریلی کیلئے گھر گھر جاکر لوگوں کو ریلی میں شرکت کیلئے دعوت دے رہے تھے وہ تو زمانہ طالب علمی سے لیکر اب تک ایک لالچی و خود غرضانہ سوچ کا مالک تھا جس نے کل کے پجار اور آج کے NP تک کا سفر صرف پیسوں کی خاطر طے کی اس کو بھی قوم قریب سے دیکھ چکا ہے۔ مگر بھئی قوم کو بھی آواز اور خیالات کی ترجمانی کیلئے ایک مؤثر اور مضبوط پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جسے اگر ہم قوم تک پہنچانے میں ناکام نہیں ہیں اگر معروضی حقیقت کو تسلیم کریں تو ہم انتہائی سست روی کا شکار ہیں۔آج ہمارے رابطے قوم سے کٹ چکے ہیں اگر کٹ نہیں بھی چکے ہیں تو انتہائی درجے تک کم ہوئے ہیں جو اس تحریک کیلئے نیک شگون نہیں کیونکہ آزادی کی تحریک ایک عوامی تحریک ہوتی ہے تو اس تحریک کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے ہمیں اپنے رابطے قوم سے مزید بہتر کرنے ہونگے۔ جس طرح شہید قندیل صباء نے کہا تھا کہ نیشنل پارٹی تحریک کیخلاف Spy تشکیل دے رہا ہے وہ آج ہمیں کیچ سے راشد پٹھان امام بھیل وغیرہ,دشت سے لالا رشید اور اکرم دشتی,پنجگور سے رحمت صالح, علاؤالدین اینڈ کمپنی اور مشکے میں علی حیدر اور اس کے ٹولے کے شکل میں دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ آج صرف Np ہی نہیں "ن” لیگ بی این پی مینگل و عوامی جماعت اسلامی اور دیگر پارلیمان پرست جماعتیں اپنے Spy تشکیل دے چکے ہیں اور تحریک کیخلاف سرگرم عمل ہیں وہ ہمیں خالد لانگو, ثنااللہ زھری, سرفراز بگٹی حافظ سعید زکریا محمد حسنی شفیع مینگل ،کریم نوشیروانی اور مزہبی شدت پسند منیر ملازئی کی شکل میں مل جاتے ہیں اور مزکورہ بالا شخص بلوچ دشمنی کیلئے ایک چارراہے پہ کھڑے ہیں اور بلوچ دشمنی میں پیش پیش ہیں کیونکہ انکی مقصد مراعات اور کرسیاں ہیں اور یہ تب انہیں میسر ہونگے جب بلوچ وطن پاکستان کی کالونی کی حیثیت سے رہے گا اور جب بلوچ کالونی ازم اور سامراج سے نجات حاصل کرے گا تو ان پنجابی جاگیردار اپنے محلوں کے صفائی کرنے کیلئے بھی نہیں رکھیں گے بقول حنیف شریف "آ کہ وتی نہ بیت آ کسی نہ بیت ” اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچ ایک مشترکہ عمل کی جانب بڑھے۔تمام سیاسی و مزاحمتی قوتیں، میں نہیں کہونگا کہ اپنے اختلافات بھول جائیں بلکہ مباحثے اور مل بیٹھنے سے ختم کریں. بلوچ قومی بقا ء اور تشخص کو برقرار رکھنے کیلئے دشمن کے پالیسیوں کیخلاف مظبوط پالیسیاں ترتیب دے کر ان پر مشترکہ عمل کریں اور ان پارلیمانی و پاکستانی باجگزاروں کو حالات و حادثات سے فائدہ اٹھانے سے روکے رکھیں۔ اگرچہ بلوچ اتنی طاقتور نہیں ہیں مگر اتنے بھی کمزور نہیں کہ دشمن اسے شکست دے سکے مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اندرونی انتشار و خلفشار اور دوریاں تحریکوں کو کھا جاتی ہیں۔ آج معروضی حقیقت کو تسلیم کرکے تمام قوتوں کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ دوریاں کمزوری کی سبب بن رہے ہیں۔پارلیمانی باجگزاروں نے اپنی دیرینہ خواہش پوری کی اور مزید کرنے کی کوشش کریں گے۔بلوچ آزادی پسند قوتوں کو ایسے ریلیوں کو ناکام کرنے کیلئے اپنے مضبوط پالیسیاں ترتیب دینے ہونگے اور مسائل کو ماضی سرد خانوں سے نکال کر اب تجربے کرنے کی ضرورت ہے ۔۔۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker