صحافت پاکستانی فوج و اسکے دیگر خفیہ اداروں کی پروپیگنڈہ مہم تک محدود ہے۔بی این ایم

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز)بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی ترجمان نے میڈیا میں جاری کردہ بیان میں کہا کہ ’’ ورلڈ پریس فریڈم ڈے ‘‘ کے مناسبت سے پاکستانی صحافتی حلقوں،پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا کی جانب سے آزادی صحافت کے دعوے اوربغیر جانب داری رپوررٹنگ کے دعوے محض عالمی صحافتی اداروں کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔صحافت اب پاکستانی فوج و اسکے دیگر خفیہ اداروں کی ایک پروپگنڈہ مہم تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ ایسے میں قابض ریاست میں ورلڈ پریس فریڈم ڈے حوالے صحافتی اداروں کی تقریبات بھی ڈھونگ سے کم نہیں ہیں۔بلوچستان میں روزانہ کی بنیادوں پر لوگوں کو حراست بعد لاپتہ کرنے کے ساتھ لوگوں کی حراستی قتل عام تیزی سے جاری ہے ،جہاں بی این ایم ہر ماہ ان جارحیت و بربریت کی رپورٹ میڈیا میں جاری کرتا ہے مگر آزادی صحافت و ’’ورلڈ پریس فریڈم ڈے ‘‘ کے نام پر بڑی باتیں کرنے والے بلوچستان کا رخ کرنے و حقائق کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔مرکزی ترجمان نے کہا کہ آج تک ایک بھی الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا نے مقبوضہ بلوچستان میں جاری پاکستانی فوج،خفیہ اداروں،مذہبی ڈیتھ اسکواڈوں کی بربریت کے حقائق جانے کے لیے مقبوضہ بلوچستان کا دورہ کرنا گوارہ نہیں کیا۔ایسے میں ورلڈ پریس فریڈم ڈے پر صحافتی اخلاقیات پر تقاریر کرنے والے ذمہ داری کا مظاہرہ کر کے مقبوضہ و فوجی جارحیت زدہ سرزمین کا دورہ کر نے کی ہمت کر کے حقائق کو دنیا کے سامنے لانے میں اپنا کردار ادا کر کے صحافتی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔ مرکزی ترجمان نے شہید فدا کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستانی پارلیمان پرست اور ڈیتھ اسکواڈ نیشنل پارٹی بلوچ تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش میں ہے۔ جہاں یہ لوگ ابھی تک شہداء کا نام استعمال کر کے بلوچ قوم کو گمراہ کرنے کی کوششوں میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے نیشنل پارٹی کوشہید فدا احمد کی سوچ و نظریہ کا تسلسل قرار دیکر حقائق اور تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔ نیشنل پارٹی کو فدا احمد کی سوچ سے نتھی کرنا سورج کو انگلی سے چھپانے والی بات ہے۔شہید فدا احمد بلوچ ایک نظریہ و فکر کا نام ہے۔ انکی جدو جہد کا مقصد بلوچستان کی حق حاکمیت و اپنی وطن کی آزادی تھا۔شہید فدا احمد کی تخلیق بی این ایم ہے، نہ کہ نیشنل پارٹی۔ اسی تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے شہید قائد چیئرمین غلام محمد بلوچ نے آزادی کے نعرے،نظریہ و فکر کو بلوچ کے گھر گھر میں پہنچایا اور آج بلوچ نیشنل موؤمنٹ ایک توانا جہد و جہد بن کر ابھر چکا ہے۔نیشنل پارٹی ریاستی فورسز کا ایک اوزار بن کر بھول چکا ہے کہ وہ بلوچ جہد سے کوسوں دور اب پاکستان کی سا لمیت کے چوکیدار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ایسے عناصر کو بلوچ قوم و عظیم شہداء کی بے حرمتی اور انکے نظریہ و فکر کو مسخ کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دے گی۔ 

مزید خبریں اسی بارے میں

Close