فروری کے مہینے میں بلوچستان سے فورسز نے 200افراد کو گمشدہ ، 42کو ہلاک اور 15کو زخمی کردیا۔بی ایچ آر او

کوہٹہ (ریپبلکن نیوز) بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن نے بلوچستان میں فورسز کی کاروائیوں و دیگر واقعات کے دوران ہونے والی ہلاکتوں اور آپریشنوں و چھاپوں کے دوران فورسز کے ہاتھوں ماورائے عدالت گمشدگیوں کی ماہانہ رپورٹ میڈیا کو جاری کرتے ہوئے کہا کہ فروری کے مہینے میں بلوچستان سے فورسز نے 200افراد کو جبری طور پر گمشدہ ، 42کو ہلاک اور 15کو زخمی کردیا، جبکہ مختلف کاروائیوں کے دوران اغواء ہونے والے 15افراد بازیاب بھی ہو گئے ۔ جبری گمشدگیوں کے واقعات ایک عرصے سے بغیر کسی تعطل کے جاری ہیں جس کی مثال حکومت کے اس دعوے سے ملتی ہے جس کے مطابق بلوچستان سے دو سالوں کے دوران تئیس ہزار سے زائد افراد کو مشتبہ ہونے کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن نے کہا کہ بلوچستا ن کی انسر جنسی کو کاؤنٹر کرنے کی پالیسیاں بڑے پیمانے پر لوگوں کی ہلاکت و گمشدگیوں سمیت سماج میں منفی اثرات پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔ آئے روز کی کاروائیوں سے عام لوگوں میں خوف کا ماحول پیدا ہوچکا ہے جس سے عدم تحفظ کا احساس بڑھ چکا ہے۔ صرف فروری کے مہینے میں 200افراد کی گمشدگی، 42کی ہلاکت اور 15کو زخمی کرنے کے واقعات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں بلوچستان میں طاقت کا استعمال کس شدت کے ساتھ ہورہا ہے۔ بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کے ترجمان نے کہا کہ بلوچستان سے مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگیوں کا سلسلہ ایک دہائی کا عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال جاری ہے۔ فروری کے مہینے میں بلوچستان سے مختلف علاقوں سے 15افراد کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں، جبکہ 10افراد آپریشنز و دیگر کاروائیوں کے دوران فورسز کے ہاتھوں ٹارگٹ کلنگ کے زریعے قتل کردئیے گئے۔ ڈیرہ بگٹی سے برآمد ہونے والی اجتماعی قبر سے خاتون کی لاش بھی برآمد ہوئی ، مقامی لوگوں کے مطابق چند روز قبل اس علاقے میں ہونے والی آپریشن کے دوران فورسز نے خاتون سمیت چار لوگوں کو اغواء کیا تھا، ان کی لاشیں اجتماعی قبر سے برآمد ہو گئیں۔ 8افراد نامعلوم افراد کی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن گئے اور تین مسخ شدہ لاشوں کی شناخت نہ ہو سکی، جبکہ اسی مہینے چھ افراد نامعلوم وجوہات کی بناء پر قتل ہو گئے۔ بلوچستا ن میں خواتین کا اغواء پچھلے چند سالوں سے جاری ہے، لیکن گزشتہ سال سے خواتین کی مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کے واقعات بھی رونما ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ سال 2017کی پہلے دو مہینوں کے دوران کوہستان مری، ڈیرہ بگٹی اور مکرا ن کے علاقوں سے دورانِ آپریشن فورسز نے پانچ خواتین اور تین کمسن بچوں کو ہلاک و زخمی کردیا ہے، جو کہ اپنی نوعیت کے مختلف واقعات ہیں۔اس طرح کی واقعات کی رونمائی بلوچستان میں انسانی حقوق کی شدید پامالی کا سبب بن رہے ہیں۔بی ایچ آر او نے بلوچستان کی صورت حال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سول سوسائٹی اور میڈیا اداروں کی جانب داری بلوچستان کو بدستور ایک’’ خاموش جنگ زدہ خطہ‘‘ بنائے ہوئے ہیں۔ اس صورت حال کو بدلنے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے ضروری ہے کہ سول سوسائٹی اپنا فعال کردار ادا کرے، بصورت دیگر اس طرح کے واقعات مزید سینکڑوں انسانی جانوں کے ضیاع اور ہزاروں کی گمشدگی کا سبب بنیں گے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker