گوریلا جنگ میں راز داری کتنا اہم ؟

گوریلا جنگ میں راز داری کتنا اہم ؟

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بلوچ ایک بہادر قوم ہے، قبائیلی روایات کے امین ہیں اور حق و سچ پر ڈٹے رہنا اور اس کیلئے لڑ مرنے سے پیچھے نہیں ہونا بلوچ کی نشانی ہے اور یہی وہ وجوہات ہیں کہ بلوچ کو جنگوں قوم کہا جاتا ہے۔ 

بلوچ سزمین کیلئے جنگ جیسے بھی شروع ہوئی وہ الگ بحث ہے مگر اب اس جنگ کس طریقے سے لڑی جارہی ہے اس کے کیا فائدے اور نقصانات اٹھائے جارہے ہیں وہ اہمیت کا حامل ہے۔ 

بلوچستان میں لڑنے والے مسلح گروپ اتنی بڑی فوج یا ملیشیا نہیں ہے کہ وہ جدید اسلح، جنگی ہیلی کاپٹروں سے لیس پاکستانی فوج کا دوبدو سامنا کرسکے۔ اس لیئے ان کے پاس واحد راستہ گوریلا وار ہے اور یقین کریں کہ انہی محدود وسائل کے ساتھ بھی دشمن فوج کا بلوچستان میں آسانی سے رہنا ممکن نہیں ہوسکے گا مگر ضروری ہے بلوچ خود سے مخلص ہو۔ 

بلوچ سرمچاروں کو تصویریں کھنچ کر فیس بک کی زینت بنانے کے بجائے رازاداری اور بہترین گوریلا حکمت عملی اپناتے ہوئے خود کو اس قابل بنانا ہوگا کہ پنجابی دشمن ہر لمحہ ہر گلی کوچے میں خود کو ان کے گھیرے میں محسوس کریں جس دن بلوچ سرزمین کے محافظ خود کو اس قابل بنانے میں کامیاب ہوئے اس وقت کامیابی کی طرف بلوچ کو گامزن کہا جا سکتا ہے۔ 

گوریلا جنگ  میں کوئی ایک سپاہی درجن کے برابر ہوتا ہے۔ وہ ایک اس لیئے درجن کے برابر نہیں کہ اس کے ہاس جادو کی کوئی چھڑی ہے بلکہ اس لیئے ہے اس کے پاس بہترین حکمت عملی ہے اور وہ اپنی راز کو اشتہار نہیں بناتا۔ 

گوریلا جنگ کسی بھی مضبوط فوج کو تھکا سکتی ہے 

لجزائر میں 9ہزار گوریلوں نے 4لاکھ فرانسیسی فوجیوں کو تھکا دیا اور فرانس کو دیوالیہ کردیا۔ سائپرس( قبرص) میں100 گوریلوں نے 40 ہزار برطانوی فوج کو عاجز کردیا اور فوج بھی وہ جو کمیونسٹ گوریلوں سے برما میں لڑ چکی تھی۔ گوریلا جنگ کا اصول ہے کہ وہ سامنے ہی نہیں آتے کہ انکا خاتمہ کیاجاسکے، سوشل میڈیا پر بیٹھ کر اشتہار نہیں بنواتے یا بنتے ہیں بلکہ گوریلا وہ ہوتے ہے جو ایک لمحے میں  فوج پر حملہ کرتے ہیں،دوسرے لمحے میں وہ کسی ٹھیکے پر کام کر رہے ہوتے ہیں یا کسی دکان کے سامنے ریڑی لگا کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ 

مانا کہ زمانہ تھوڑا بدل گیا کہ آج کل کے سرمچار ریڑی نہیں لگا سکتے یا ٹھیکے پر کام نہیں کرسکتے مگر اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ خود کی نمائش نہ کریں۔ 

بلوچ قوم کی شاید طبعیت ایسی ہے یا پھر اس قوم کی بدقسمتی ہے کہ ہم اپنے اصل ہدف پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے خود کی تشریح میں لگ جاتے ہیں بلوچ مسلح تنظیموں میں راز داری کی اہلیت اور گوریلا جنگ کے حوالے سے حکمت عملی اپنانے پر بہت کام کی ضرورت ہے۔ 

معزرت کے ساتھ مگر بلوچ مسلح مزاحمت میں ایک تنظیم ایسا بھی ہے کہ اس کی کاروائی اور سپاہی شاید اتنے نہیں ہونگے کہ اتنے کمانڈر ہیں  مزکورہ تنظیم کی اس خطے میں ایک بھی ایسی کاروائی نہیں کہ ہو جو کسی اخبار کے چھٹے صفحے میں بھی دیکھنے کو ملے مگر ہر روز ایک نیا کمانڈر فیس بک پر نمودار ہوتا ہے۔ 

یہ نہیں ہے کہ محض اس ایک مخصوص تنظیم کی کمزوری ہے سب میں ہی کمزوریاں موجود ہیں جن پر فوری کام کر کے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ 

گوریلا جنگ جہاں دور دروز علاقوں میں کامیاب ہوتی ہے وہی شہری گوریلا جنگ فیصلہ کن ہوتا ہے۔ 

دوردراز  علاقوں کی نسبت شہری جنگ زیادہ فائدے مند ہوتی ہے اور بہت ہی آسان بھی ہوتی مگر ضروری ہے کہ اپنے اشہتاری انداز کو فراموش کرنا ہوگا۔ 

شہری جنگ  اس لیئے مفید ہے کہ دشمن کو بلکل بھی خبر نہیں ہوتا کہ کب اور کہاں سے حملہ ہوجائے گا اور سیکنڑوں یا ہزاروں کی ہجوم میں بنا کسی خطرے کے باحفاظت نکل بھی سکتا ہے اور آپ کے دشمن کے جوابی کاروائی کے روایتی طریقے ہر طرح سے بیکار ہو جاتے ہیں۔ 

امریکہ دس سال تک ویتنام پر کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا رہا اس دوران اس نے 58 ہزار فوجی اور 10 ہزار جنگی جہاز و ہیلی کاپٹر گنوائے، مگر پھر بھی وہ اس گوریلا جنگ کو شکست نہیں دے سکا۔ 

اگر امریکہ، روس جیسی بڑی قوتیں بھی گوریلا جنگ کے سامنے شکست سے دوچار ہوسکتی ہے تو پاکستان کی اتنی قابلیت نہیں پھر کیوں ستر سال سے بلوچ اس جنگ میں اب تک کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکی ہے۔

بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں مگر میرے نظر میں سب سے بڑی وجہ بلوچوں میں راز داری کا نہ ہونا اور خود کو فلمی ستاروں کی طرح سوشل میڈیا پر پیش کرنا ہماری لیئے نقصانات کا سبب بن رہی ہیں۔

معاشی حوالے سے بہت سے کمزوریاں ہیں مگر اگر راز کو راز رکھا جائے اور اپنی توجہ محض اپنی فرض اور زمہ داریوں پر ہو اور اپنے ساتھیوں اور ہمسفروں سے مخلص ہو تب بہت سے مشکلات کم ہو سکتے ہیں۔

لیکن میری نظر میں سب سے اہم راز داری ہے آپ کے زبان سے غیر مناسب جگہ پر ایک لفظ نکلنے سے آپ کے درجنوں ساتھیوں اور ہمدردوں کی زندگیاں خطرے میں پڑھ سکتی ہیں

تحریر: زرکانی بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close