یکم جنوری2016سے لیکر 30دسمبر 2016کے دوران مجموعی طور پر 607افراد قتل کردئیے گئے ہیں۔بی ایچ آر او

کراچی (ریپبلکن نیوز)بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کی چیئرپرسن بی بی گل بلوچ نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کی ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی بی گل بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پابندی سے وہاں تعینات فورسز خود کو بری الزمہ سمجھتے ہیں ۔جاری انسر جنسی کو کاؤنٹر کرنے کے لئے بنائی جانے والی پالیسیاں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مترادف ثابت ہورہے ہیں، لیکن اس کے خلاف کوئی موثر آواز موجود نہیں ہے۔ بلوچستان میں ریاست کے فوجی و نیم فوجی اداروں کے بہت زیادہ متحرک ہونے کے باوجود مذہبی شدت پسندی، ٹارگٹ کلنگ جیسے واقعات عام ہیں، دوسری طرف لوگوں کا اغواء اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی میں بلوچستان میں تعینات اہلکار براہ راست ملوث ہیں۔ یکم جنوری2016سے لیکر 30دسمبر 2016کے دوران مجموعی طور پر 607افراد قتل کردئیے گئے ہیں، جن میں 113مسخ شدہ لاشیں بھی شامل ہیں۔ جبکہ اس دوران مختلف کاروائیوں کے دوران ہزاروں افراد لاپتہ کردئیے گئے، جن میں سے 1809 افراد کی تفصیلات بی ایچ آر او کو موصول ہوئے ہیں۔ گرفتار ہونے والے افراد کے لواحقین فورسز کی دھمکیوں کے پیش نظر اپنے پیاروں کی گمشدگی کی خبر کو میڈیا سے چھپاتے ہیں، جس کی وجہ سے لاپتہ افراد کی تفصیلات تک رسائی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ البتہ صوبائی حکومت کی اگست میں شائع ہونے والا بیان لاپتہ افراد کی صورت حال کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے جس میں 13000افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ کمزور عدالتی نظام اور دھونس دھمکیوں کی وجہ سے کوئی شخص ان عسکری اداروں کے افیسران کے خلاف عدالتوں میں مقدمہ نہیں چلا سکتا، حتی کہ انتظامیہ کے مقامی زمہ دار بھی ایف سی اور آرمی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے اپنی زندگی کی حفاظت کو مدنظر رکھ کر گریز کرتے ہیں۔ سیاسی کارکنوں کا اغواء اور سالوں لاپتہ کرنے جیسی کاروائیاں ایک دہائی سے جاری ہیں، سینکڑوں ایسے سیاسی کارکن اب بھی لاپتہ ہیں جنہیں نصف دہائی سال قبل اغواء کیا گیا تھا۔بی بی گل بلوچ نے کہا بلوچستان سے لوگوں کی بڑی تعداد اب بھی لاپتہ ہے جنہیں عدالتوں میں پیش نہیں کیا جارہا ہے۔ سنیٹ کی کمیٹی نے 90افراد کو لاپتہ قرار دیا لیکن صوبائی حکومت کے دعوؤں کے مطابق 17000افراد دو سالوں کے دوران گرفتار کیے گئے ہیں،جن کو عدالتی کاروائیوں سے دور رکھا جا رہا ہے جو کہ گمشدگان کے زمرے میں آتے ہیں، صوبائی حکومت کے ترجمان نے دسمبر 2015میں9000گرفتاریوں اور، اگست 2016میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت 13000سے زائد افراد کی گرفتاری کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم گرفتار ہونے والوں کی شناخت اور انہیں عدالتوں میں پیش کرنے کے حوالے سے میڈیا کو بے خبررکھا گیا۔ دشت کی متعدد دیہاتوں کی آبادیوں نے آپریشنوں کی وجہ سے نکل مکانی کی ہے۔ نکل مکانی کرنے والے سینکڑوں لوگوں نے تربت، کراچی ، حب چوکی اور مختلف علاقوں میں پناہ لی ہوئی ہے۔ کولواہ ، ہوشاب، ہیرونک، شاپک ، بالگتر، آواران، جھالاوان اور کوہِ سلیمان کے علاقوں اور پنجگور کے مختلف علاقوں سے ہزاروں خاندان اپنے علاقوں سے نکل مکانی کرچکے ہیں، چند ایک جو بچے ہیں، آئے روز کی دھمکیوں اور آپریشنوں سے تنگ آ کر وہ بھی علاقہ خالی کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ ہماری اعداد و شمار کے مطابق کولواہ کے مختلف علاقوں سے 2578افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر نکل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ آئے روز کی آپریشنز سے تنگ آ کر مقامی لوگ گرفتاریوں سے بچنے کے لئے حب چوکی، تربت اور دیگر علاقوں کا رخ کررہے ہیں۔ معاشی مشکلات اور دیگر مصائب کی وجہ سے نکل مکانی کرنے والے لوگ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ بی بی گل بلوچ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو اس صورت حال سے نکالنے کے لئے ضروری ہے کہ انصاف کے تمام ادارے اور میڈیا اپنا کردار ادا کریں ، لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ روکنے کے لئے متعلقہ ادارے اپنی زمہ داریاں پورا کریں۔ نکل مکانی کرنے والے لوگوں کی واپس اپنے علاقوں میں بحالی کی جانب بھی زمہ داروں کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close