بلوچ تاریخ میں خواتین کا احترام

کوئٹہ /مضمون (ریپبلکن نیوز) اگر ہم بلوچ تاریخ کا جائزہ لیں یا اس پر غور کریں تو ہمیں خواتین کے لیے بہت بڑی احترام یا رتبہ دکھائی دیتا ہے ۔جس کی مثال ہمیں آج سے چار یا پانچ صدی پہلے ملتی ہے جہاں گوہر نامی بیوہ خاتون نے گہرام لاشار کو مالیت دینے سے انکار کیا اور گہرام سے تنگ آ کر چاکر رند کے پاس پناہ لی اور اسی بیوہ خاتون کے لیے چاکر رند اور گہرام لاشار نے بلوچ تاریخ کا سب سے بڑا آپسی جنگ شروع کیا جو 30 سال تک جاری رہا، جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ جان سے ہاتھ دو بیٹھے۔

ٹیک اسی طرح پناہ میں آئے ہوئے خواتین کی حفاظت کے لیے دودا نے بھی ایک بہت بڑا تاریخ رقم کیا جنہیں آج بھی بلوچ یاد کرتے ہیں۔ جب سمی نامی بیوہ بلوچ خاتون بیبگر سے تنگ آ کر اپنے مال مویشیوں کو لے کر دودا کی پناہ میں آتی ہے تو بیبگر اپنے ساتھیوں کے ساتھ سمی کی مال مویشیوں کو لوٹنے کی کوشش کرتا ہے تو دودا اپنے پناہ میں آئے ہوئے خاتون کی مال مویشیوں کی دفاع کرتے ہوئے موت کو قبول کرتا ہے اور یہ جنگ یہان تک ختم نہیں ہوتا، بلکہ سینے میں بدلے کی آگ لیے  دودا کا بھائی بالاچ گورگیج جو چھوٹا بچہ تھا اس نے بدلے کی آگ کو سینے میں رکھا اور بڑا ہو کر نقیبو کو ساتھ لے کر بلوچ تاریخ میں گوریلا جنگ کی شروعات کی اور بیبگر کے ساتھ ان کے سینکڑوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار کر اپنا کلیجہ ٹھنڈا کیا جس کی مثال  آج بھی بلوچ قوم شان دیتی ہے کہ ( بیر بلوچ اے دان سد سالا گار نا بیت ) یعنی بلوچ کا بدلہ سو سال کے بعد بھی ختم نہیں ہوتا۔کچھ مثالیں وقت کے ساتھ ساتھ صرف مثالیں بن کر رہ جاتے ہیں لیکن کچھ مثالیں وقت کے ساتھ دوبارہ دہرائے جاتے ہیں۔

اسی طرح اکیسویں صدی کے شروعات میں شہید نواب اکبر خان بگٹی نے تاریخ کو دوہراتے ہوئے ایک اور مثال قائم کردی جب بلوچ سرزمین پر ڈاکٹر شازیہ نامی ایک سندھی خاتون کی عزت کو پنجابی فوجی کرنل نے پامال کیااور  ڈاکٹر شازیہ کے مجرم کو با عزت بری کیا گیا تب  نواب صاحب نے اپنے سرزمین پر یہ سب کچھ برداشت نہیں کیا اور ڈاکٹر شازیہ کے مجرموں پر اتنے حملے کیے کہ ان کے ہوش اڑ گئے اور شہید نواب صاحب نے اسی واقع کے بعد ریاستِ پاکستان سے مکمل دشمنی لے لیا اور بالاخر بلوچستان کی مکمل آزادی کے لیے پنجابی فوج سے لڑھتے ہوئے شہید ہوگئے۔

مزید مضامین:

شہید اکبر خان بگٹی کے ساتھ کراچی میں ایک نشست

شہید اکبر خان بگٹی ایک عہد ساز شخصیت

ڈاڈائے قوم شہید نواب اکبر خان بگٹی کی عظیم قربانی

اگر ہم سمی اور گوہر کے واقعات کا جائزہ لیں تو وہ دونوں فریق بلوچ تھے لیکن پھر بھی نفرت کی شدت اس قدر شدید تھا کہ وہی رند اور لاشار جو بنیاد سے دو بھائیوں کے اولاد تھے اور اپنے دشمن کو مشترکہ لڑ کر اپنے وطن سے باہر دکیل دیتے تھے ، جب پناہ میں آئی خاتون کی بات آئی تو وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے۔

اب کی بار دشمن غیر ہے اور ایک ایسا غیر مہذب دشمن کہ اس کا نام تاریخ ، نا نام اور نا ہی کوئی پہچان، جس نے نہ صرف ہمارے وطن پر قبضہ کیا ہے بلکہ ہمیں اتنا نقصان پہنچایا ہے جس کے بارے میں سوچھتے ہوئے آنکھوں سے خون کے آنسو بہہ جاتے ہیں۔

 آج سے پہلے بلوچ تاریخ میں کسی قبضہ گیر کی جرت نہیں تھی کہ وہ بلوچ خواتین کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتا لیکن آج بلوچ خواتین کو اٹھا کر ٹارچر سیلوں میں بند کیا جا رہا ہے اور ان کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کیا جا رہا ہے جس  طرح ستر کی دہائی میں اسی غیر فطری ریاست نے بنگالیوں کے ساتھ کیا تھا۔

عابد بلوچ کے مزید مضامین:

سامراجی ریاستیں اور مذہب 

گلزار دوست کے نام کھلا خط!

بلوچستان میں نام نہاد انتخابات اور بلوچ تنظیموں کی بیان بازیاں

اب یہ جنگ بلوچ سائل اور وسائل کی جنگ تک محدود نہیں بلکہ بلوچ کی عزت اور غیرت کی جنگ ہے یہ جنگ بلوچ کو اپنے اندر اتحاد پیدا کرتے ہوئے مشترکہ طورپر لڑنی ہو گی ۔کیونکہ یہ ایک قبیلے یا ایک طبقے کی جنگ نہیں  قومی جنگ ہے بلوچ قوم کی تمام طبقات کو مل کر یہ جنگ لڑنی ہوگی اور اپنے رنجشوں اور گروہی سوچ سے بالاتر ہو کر اپنی عزت اور غیرت کی دفاع کی خاطر آپس میں ہمیں متحد ہو کر ایک دوسرے کا ساتھ  دیکر دشمن کو ایسا ضرب لگانا ہوگا کہ اسے ستر کی دہائی سے بھی بڑے ذلت کا سامنا کرنے پڑے، تاکہ مستقبل میں دشمن قوتیں بلوچ سرزمین کی طرف اپنی گندی نظریں نہ دوڑانے سے پہلے لاکھ بار سوچنے پر مجبور ہوجائیں۔

تحریر: عابد بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close