بلوچستان میں منشیات کا جان لیوا کاروبار(رپورٹ)

کوئٹہ ،بیورورپورٹ(ریپبلکن نیوز) بلوچستان میں منشیات کا کاروبار اپنی زوروں سے جاری ہے جس میں بڑے بڑے شخصیات ملوث ہیں جنہیں خفیہ اداروں اور ریاستی فورسز کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔افغانستان سے اسمگل کئے جانے والے منشیات کو گوادر ،پنجگور اور بلوچستان کے سرحدے علاقوں تک پہنچانے میں ریاستی خفیہ ادارے اور ریاستی فورسز برائے راست امام بیل جیسے بدنام زمانہ منشیات فروشوں کا مکمل پشت پناہی کرتے آرہے ہیں۔روزانہ کی بنیاد پر افغانستان سے کروڑوں مالیت کے منشیات بلوچستان اسمگل کر کے بلوچستان کے سرحدی علاقوں سے ریاستی اداروں کی سرپرستی میں ایران ااوردیگر ممالک فروخت کیئے جا رہے ہیں۔ان تمام مراحل میں پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکار مقامی ڈیتھ اسکواڈ کا استعال کرتے ہوئے منشیات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل یا فروخت کرتے ہیں جس میں ایک بڑا حصہ مقامی ڈیتھ اسکواڈ کو بھی جاتا ہے۔
اس گھناؤنے کاروبار میں پاکستانی خفیہ ادارے ایک تیر سے دو شکار کر رہے ہیں ۔ایک تو منشیات سے روزانہ کروڑوں روپے کمائے جا رہے ہیں دوسری یہ کہ بلوچ قوم کے نوجوانوں کونشے کے دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر کسی قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانا ہو تو اُس قوم کے نوجوانوں میں نشہ عام کردو، جبکہ پاکستانی ریاست نے یہی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔ منشیات کے اس کاروبار میں ریاستی خفیہ اداروں اور مقامی ڈیتھ اسکواڈ ز کے درمیان ایک دوستانہ تعلقات قائم ہیں اور بلوچستان بھر میں منشیات فروشوں (ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں) کو اس کاروبار میں مکمل آزادی حاصل ہے۔
منشیات کے اس جان لیوا کاروبار میں صرف پنجگور میں گزشتہ ایک مہینے میں اربوں روپے کے منشیات اسمگل کئے جا چکے ہیں جس میں ایروئین، کرسٹال، چرس اور شیشہ سمیت مختلف قسم کے منشیات شامل ہیں۔یہ منشیات پنجگور کے ایسے علاقوں میں اسمگل کیے جاتے ہیں جو ریاستی فورسز اور مقامی ڈیتھ اسکواڈ کا گڑھ بتا یاجاتا ہے۔جبکہ اس کاروبار سے دنیا بھر میں سالانہ لاکھوں لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں تعینات فورسز اور خفیہ اداروں کے افسران اپنے کام سے کافی خوش نظر آتے ہیں جبکہ دوسرے افسران بھی اسی کوشش میں ہیں کہ انکا ٹرانسفر بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں کیا جائے تاکہ وہ بھی اس جان لیوا کاروبار سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے کروڑوں روپے کما سکیں۔
بلوچستامیں پاکستانی خفیہ ادارے اور فورسز ہر طرح سے پیسے کمانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔منشیات کے علاوہ بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں ایران سے آنے والے ڈیزل کی گاڑیوں سے پاکستانی چیک پوسٹیں روزانہ لاکھوں روپے بٹور رہے ہیں ۔جبکہ ہمارے اطلاعات کے مطابق بلوچستان میں پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکار اغواء بلوچوں(مسنگ پرسنز) کی رہائی کے عوض ان کے لواحقین سے بھی لاکھوں روپے لے رہے ہیں۔ لیکن پیسے لینے کے باوجود بھی لاپتہ بلوچوں کی بازیابی ایک خواب بن کر رہہ گئی ہے۔پاکستانی فورسز لوگوں سے پیسے لیکر آپس میں بانٹ لیتے ہیں اور متعدد بار ایسا بھی ہوا ہے کہ پاکستانی فورسز نے مسنگ پرسز کے لواحقین سے انکے پیاروں کی رہائی کے لیے بھاری رقم بھی حاصل کیں اور رقم حاصل کرنے کے چند نوں بعد انکے پیاروں کی مسخ شدہ لاش ویرانوں میں پھینک دی گئی۔وسائل سے مالامال اور پسماندہ بلوچستان کو پاکستانی ریاست ہر طرح سے نوچ رہی ہے ۔ ایک طرف بلوچ قوم کو منشیاب کے دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے تو دوسری جانب بلوچ سرزمین کے وسائل کو بڑی بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے۔نام نہاد چین پاکستان اکنامک کوریڈو کے نام پر بلوچ قوم کے خلاف گھناؤنے سازشیں کی جار ہی ہیں، بلوچ قوم کو اپنے ہی سرزمین سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close