بی ایس او آزاد کی کولواہ آپریشن کی مذمت

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے ترجمان نے گزشتہ روز کولواہ میں فورسز کی آپریشن کے دوران نہتے لوگوں کی گرفتاری و شہادت اور درجنوں گھروں کو لوٹ مار کے بعد جلانے کی کاروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فورسز کی کاروائیاں نہتے بلوچ عوام کے خلاف انتہائی جارحانہ ہیں۔ترجمان نے کہا کہ فورسز کے زمینی و فضائی اہلکار آبادیوں پر آئے روز بمباری کرکے لوگوں کو ہلاک و زخمی کررہے ہیں۔ بلوچ عوام نے کبھی بھی ریاستی قبضہ گیریت کو تسلیم نہیں کیا ہے اسی لئے فورسز کی کاروائیاں بلوچ عوام کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کولواہ میں فورسز نے کاروائیوں کے دوران چھ دیہاتوں کے سینکڑوں گھروں کو لوٹ مار کے بعد نظر آتش کردیا جبکہ مقامی لوگوں کی بیس سے زائد موٹر سائیکل اور گاڑیاں بھی نظر آتش کردیں۔دورانِ آپریشن فورسز ایک سرکاری ملازم سمیت چھ لوگوں کو اغواء کرکے اپنے ساتھ لے گئے جن میں تین مزدور تھے۔ فورسز حسب معمول اپنی کاروائیوں کو شدت پسندوں کے خلاف کاروائیاں ظاہر کرتی ہے لیکن یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ کولواہ کے علاقوں میں ہونے والا زمینی و فضائی آپریشن نہتے لوگوں کے خلاف تھا۔ بی ایس او آزاد نے کہا کہ آبادیوں پر حملہ کرنے کے بعد خود کو بری الزمہ ثابت کرنے کے لئے فورسز آسانی سے انہیں شدت پسندوں کے ٹھکانے قرار دے سکتی ہے لیکن یہ بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی زمہ داری ہے کہ وہ بلوچستان کا دورہ کرکے فورسز کے مظالم سے دنیا کو آگاہ کریں۔بی ایس او آزاد کے ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچستان میں چائنا کی سرمایہ کاری کو کامیاب بنانے کے لئے ریاستی فورسز بلوچ عوام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا تہیہ کر چکے ہیں۔ نیشنل پارٹی کی قیادت سمیت بلوچستان میں بیرونی سرمایہ کاری اور قبضہ گیریت کی حمایت کرنے والی پارٹیاں بھی فورسز کی اس حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close