بلوچستان میں نام نہاد انتخابات اور بلوچ تنظیموں کی بیان بازیاں

کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز) بلوچ آزادی پسند تنظیموں کو چاہیے کہ آپسی بیان بازی سے گرہیز کرتے ہوئے پاکستانی نام نہاد انتخابات کی ناکامی پر اپنی توجہ مرکوز کریں، تاکہ دنیا کو یہ باور کرایا جاسکے کہ پاکستانی ریاست بلوچ سرزمین پر قابض ہے اور بلوچ قوم اپنی آزادی کےلیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

پاکستانی نام نہاد سیاسی اور عسکری ادارے ایک سال قبل ہی بلوچستان میں آنے والے انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں، کیونکہ آج سے پانچ سال قبل کے زخم کو وہ آج بھی محسوس کرتے ہیں، اور دوبارہ ایسی چوٹ کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے، اس لیے وہ بہت پہلے سے ہی اس کی تیاری میں مصروف عمل ہیں۔

 بلوچستان مین چند لالچی منشیات فروش  اور مذهبی دہشتگرد و بے ضمیر لوگوں کو اکٹھا کر کے بلوچستان میں انتخابات میں کؑڑا کیا گیاہے جن میں سردار عزیز اور علی حیدر سرِ فہرست ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو بلوچستان مین ڈیتھ اسکواڈ اور لشکر طیبہ اور لشکرِ خراسان کو چلا رہے ہیں ۔یہ لوگ زیادہ تر ان لوگوں کے گھروں میں جاکر انہیں بلوچ عوامی تحریک کے خلاف ورغلانے کی کوشش کر رہے ہیں جن کے کسی رشتہ دار کو بلوچ مزاحمتی تنظیموں نے مخبری کرنے کی جرم میں قتل کی ہے ۔ریاستی عناصر ان مخبروں کے گھر والوں کو بلوچ قومی تحریک کے خلاف استعمال کرنے کی بھرپور کوششوں میں لگے ہیں اور ہر نام نہاد امیدوار کی امیدیں ان پر ٹکی ہوئی ہیں، شاہد یہی وہ لوگ ہیں جو انتخابات میں 4 یا 5 ووٹ ان کے نام  ڈال دیں کیونکہ یہاں تو کوئی 500 ووٹ حاصل کرے تو وزیراعلیٰ بھی بن سکتا ہے۔

عابد بلوچ کے مزید مضامین:

سرنڈر شدہ بلوچ مزاحمتکاروں کی جنگِ آزادی میں دوبارہ واپسی

ریاستی اداروں کے نئے حربے اور بلوچ قومی تحریک 

چینی قوم کو ایک اور انقلاب سے گزرنے کی ضرورت ہے 

ریاستِ پاکستان اور اسلام 

لیکن یہ لوگ تاریخ پر نظر ڈالیں جن لوگوں یا خاندانوں نے قابض ریاستوں کے لیے اپنے قوم سے غداری کی ہے انہیں تاریخ کس نظر سے دیکھتی ہے اب یہ ان لوگوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حقیقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان بے ضمیر لٹیروں کی باتوں میں آنے کی غلطی نا کریں اور ان کے نام پر یہ تین، چار ووٹیں بھی پڑنے نہ دے کر غٰیرت مند بلوچ ہونے کا فرض ادا کریں۔

دوسری طرف پاکستانی عسکری ادارے بلوچستان میں ظلم و جبر کی کوئی کسر باقی نہیں چوڑ رہے ہیں جن کی مثال ہمیں کچھ دن پہلے جھاو میں ملتی ہے جو قابض پاکستانی ریاستی ملٹری اور انہی لٹیروں نے ایک 20 سالہ بلوچ بہن کو اغواہ کیا اور 2 دن بعد وہ بےہوشی کی حالت میں جنگل میں پڑی ملی تھی جس پر انتہائی غیر انسانی تشدد کے نشانات تھے۔

قابض ریاست اپنے ان غیر انسانی اعمال سے بلوچوں کو انتخابات سے پہلے خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ خوف کے مارے ایک ہی اشارے پر پولنگ اسٹیشنون کا رخ کرنے پر مجبور ہوجائیں لیکن قابض ریاست کو 70 کی دہائی کا عبرتناک انجام ذہن نشین کرلینا چاہیے۔

اب بلوچ قوم پرست جماعتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا میں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے گرہیز کرتے ہوئے اپنے مقصد کو زیادہ ترجیح دے کر اپنے قوم کو متحد کر کے ایک بار پھر نام نہاد پاکستانی انتخابات کو ناکام بنا کر دنیا کو یہ باور کرائیں کہ بلوچ قوم پاکستانی نام نہاد انتخابات نہیں بلکہ ایک آزاد اور خودمختار وطن چاہتے ہیں۔

تحریر: عابد بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close