مئی کے مہینے میں بلوچستان میں 32افراد قتل، 114اغواء اور26بازیاب ہو گئے. بی بی گل بلوچ

BHRO_PRESSبلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کی چیئرپرسن بی بی گل بلوچ نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مئی کے مہینے میں بلوچستان میں ہونے والے کاروائیوں کے 32افراد قتل، 114اغواء اور26بازیاب ہو گئے جبکہ کاروائیوں کے دوران متعدد لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ بی بی گل بلوچ نے کہا 32 افراد میں سے سے بیشتر لاپتہ افراد تھے جنہیں اغواء کے بعد قتل کیا گیا تھا۔ ان میں سے 5 لاشیں ناقابلِ شناخت حالت میں دفن کردی گئیں۔ بی بی گل بلوچ نے کہا کہ گزشتہ مہینے کی صرف ایک ہفتے کے دوران آواران سے چار، مشکے سے دو اور جھاؤ سے ایک لاپتہ شخص کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ مشکے سے برآمد ہونے والے لاشوں کی شناخت 27فروری کو اغواء ہونے والے مجاہد اور سرور کے نام سے ہو گئی۔ جبکہ آواران سے اشرف، عبدالصمد کی لاشیں برآمد ہوئیں جنہیں گزشتہ سال کی 30ستمبر کو اغواء کیا گیا تھا۔ جھاؤ سے چند دنوں قبل اغواء ہونے والے عمر رسیدہ بزرگ اللہ بخش کی لاش برآمد ہوئی جسے فورسز نے دورانِ آپریشن نوندڈہ سے اغوا کیا تھا۔ جبکہ ناقابل شناخت لاشوں کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیاجا رہا ہے کہ وہ لاپتہ بلوچوں کی ہیں جنہیں ڈی این اے کے بغیر دفن کردیا گیا ہے۔ بی بی گل بلوچ نے اداروں سے اپیل کی کہ ناقابل شناخت لاشوں کی شناخت کے لئے شواہد جمع کرنے کے بعد ان کی تدفین کی جائے تاکہ لاپتہ افراد کے خاندانوں کی ذہنی پریشانیوں میں مزید اضافہ نہ ہو۔بی بی گل بلوچ نے کہا کہ مقامی میڈیا بلوچستان سے سینکڑوں میل دور بیٹھ کر بلوچستان کی صورت حال کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکتی، بدقسمتی سے عالمی میڈیا ادارے و انسانی حقوق کی تنظیمیں میڈیا رپورٹس پر اکتفاء کرکے بلوچستان کی اصل صورت حال کے حوالے سے غلط اندازہ لگا رہے ہیں۔ صرف ایک مہینے کی مختصر مدت میں 32لاشوں کی برآمدگی اور 114سے زائد گرفتاریاں بلوچستان کی اصل صورت حال کو واضح کرنے کے لئے کافی ہیں۔ بی ایچ آر او کی چیئرپرسن نے کہا کہ بلوچستان میں عملاََ ایک جنگی صورت حال ہے جس سے زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد متاثر ہو رہے ہیں۔ بچوں کی تعلیمی و تفریحی سرگرمیاں مکمل طور پر معدوم ہورہے ہیں۔ ماورائے عدالت گرفتاریوں و حراستی قتل جیسے واقعات کے تسلسل کے ساتھ رونما ہونے کی وجہ سے عام لوگ ذہنی پریشانیوں و عدم اطمینانی کا شکار ہیں۔ بی بی گل بلوچ نے کہا کہ اندرون بلوچستان فورسز کے ہاتھوں بے شمار لوگ صرف بلوچ شناخت رکھنے کی وجہ سے قتل ہورہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قوانین کے مطابق ایسی کاروائیاں نسل پرستانہ کاروائیوں کے زمرے میں آتے ہیں۔ لاپتہ افراد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں مسنگ پرسنز کی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہورہا ہے۔ اوسطاََ 4 سے 6لوگ روزانہ اغواء ہو رہے ہیں۔ اغواء شدہ لوگوں کی تصدیق خود صوبائی وزارت داخلہ بارہا کرچکے ہیں۔ لیکن طویل عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال لاپتہ افراد نہ عدالتوں میں پیش کیے جا رہے ہیں اور نہ ہی ان کے حوالے مزید معلومات فراہم کی جارہی ہیں۔ گزشتہ سال حکومتی ترجمان کے مطابق انہوں نے 8000سے زائد لوگ گرفتار کیے ہیں، اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کرکے عدالتوں میں پیش کرنے کے بجائے لاپتہ کرنا اور پھر ان کی لاشیں برآمد ہونے جیسی کاروائیاں تشویشناک ہیں۔ حکومتی اداروں اور عالمی تنظیموں کی یہ زمہ داری بنتی ہے کہ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے فوری کردار ادا کریں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close