مشرف کے نام کھلا خط: مشرف تم ایک بھونڈے مجرم ہو!

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز) تمہارے ایک انٹرویو کا کلپ دیکھنے کو ملا جس میں تم دبئی کے اپنے لگژری اپارٹمنٹ کی بالکنی پر بیٹھ کر ہمیشہ کی طرح اپنے بھونڈے انداز میں پاکستانی فوج میں اپنے سے بعد میں آنے والی قیادت کو جلاوطن بلوچ رہنماؤں کو قتل کرنے کی تجویز دے رہے تھے۔

تم کو کھلے عام میڈیا پر اس طرح کی تجویز (یعنی اقبال جرم ) دیتا دیکھ کر میں ذرا بھی حیران نہیں ہوں۔ وہ اس لیے کیونکہ تم سابق وزیراعلی و گورنر شہید نواب اکبر بگٹی، جنہیں بلوچ قوم ڈاڈائے قوم کے نام سے یاد کرتی ہے، سمیت ہزاروں معصوم بلوچوں کو قتل کرکے بڑے آرام سے بچ نکل گئے ہو۔ یا کم از کم تمہیں لگتا ہے کہ تم بچ نکلنے میں کامیاب رہے ہو۔

لیکن یہ تمہاری غلط فہمی ہے کیونکہ جیسا کہ تمہارے علم میں بھی ہوگا کہ بلوچ "درگزر تو کرسکتا ہے لیکن فراموش کبھی نہیں کرتا”۔ ہم کبھی فراموش نہیں کرینگے جس طرح تمہاری فوج کے ایک کیپٹن نے ڈیرہ بگٹی میں ایک سندھی لیڈی ڈاکٹر کو زیادتی کا نشانہ بنایا جب تم ڈکٹیٹر تھے اور ہم یہ بھی نہیں بھولے کہ کس طرح تم نے اس مجرم کو بچایا جب مقامی لوگوں نے مظلوم عورت کیلئے انصاف طلب کیا۔

ہم کبھی نہیں بھولیں گے جس طرح تمہاری فوج نے ہمارے شہروں اور گاوئوں پر بمباری کی اور سینکڑوں بے گناہ بلوچوں کا قتل عام کیا جب بلوچ بلوچستان میں تمہاری ظلم و جبر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ ہمیں اب بھی یاد ہے جس طرح تم نے ہوا میں مکّے لہراتے ہوئے بلوچ قوم کو دھمکی دی کہ "ہم تمہیں ایسی جگہ سے مارے گے کہ تمہیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کس چیز سے مارا گیا ہے”۔

تم نے اپنی تمام فوجی طاقت ایک بزرگ رہنما شہید نواب اکبر بگٹی کے خلاف استعمال کی جو آخری سانس تک تم سے لڑتا رہا اور تمہاری وحشیانہ نظام کے سامنے جھکنے سے انکاری رہا۔ تم انہیں شہید کرنے میں تو کامیاب ہوگئے لیکن یاد رکھو کہ شہید نواب اکبر بگٹی کو ہمیشہ ایک بہادر رہنما کی طرح یاد رکھا جائے گا اور تمہیں لوگ ایک بزدل جنرل کی حیثیت سے پہچانیں گے جو کمر درد کا بہانہ بنا کر عدالتوں سے بھاگ گیا۔

شاید تمہیں لگتا ہے کہ تم انصاف کا سامنا کرنے سے بچ گئے ہو اور تمہیں کبھی بھی تمہاری جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر جوابدہ نہیں کیا جائیگا۔ تمیں یہ بھی لگتا ہوگا کہ بلوچ کمزور ہیں اور تمہیں اپنے خلاف کی جانے والی مظالم کا بدلہ نہیں لے سکتے لیکن یہ مت بھولو کہ ہر مجرم کے خیال میں وہ ناقابل گرفت ہے جب تک کہ وہ انصاف کی پکڑ میں نہیں آجاتا۔
ہم بھلے اس وقت کمزور ہوں لیکن ہم تمہیں انصاف کے کٹہرے میں ضرور کھڑا کرینگے چاہے جو بھی ہوجائے۔ یاد کرو کہ ان لوگوں کا کیا حشر ہوا جن لوگوں نے ستر کی دہائی میں تیس لاکھ بنگالیوں کی قتل عام میں تمہاری فوج کا ساتھ دیا تھا۔ تمہاری فوج کا جنرل اس وقت کہتا تھا کہ میں "اس قوم کی نسل بدل دونگا” لیکن تاریخ گواہ ہے کہ تمہاری فوج کو ایک ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا جو کہ جنگی تاریخ میں ایک بدترین سرینڈر کی بڑی مثال ہے جہاں نوے ہزار فوجیوں نے ہتھیار ڈالے۔

تم اپنے ملک کے کٹ پتلی عدالتوں سے بچنے میں تو کامیاب ہوگئے ہو، جہاں اصلی فیصلے اور حکومت فوج کرتی ہے، لیکن تم تاریخ کے انصاف سے نہیں بچ پاوگے۔ تمہاری تقدیر میں بھی ذلت اور رسوائی ہے اور زود یا بدیر تمہیں اپنے انجام کا سامنا کرنا پڑیگا۔

عبدالنواز بگٹی اقوام متحدہ ہیومن رائٹس کمیشن میں بلوچ ریپبلکن پارٹی کا نمائندہ ہے۔

ٹویٹر ہینڈلر: @Abdul_Bugti

نوٹ: ریپبلکن نیوزنیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close