انڈیا: سیاست میں مذہب، ذات پات کے استعمال پر پابندی عائد

بھارت:(ریپبلکن نیوز) انڈین سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے سیاست دانوں کی طرف سے انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے مذہب اور ذات پات کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پیر کے روز جاری کیے جانے والے ایک فیصلے میں جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے کہا ہے کہ کوئی بھی سیاست دان ذات پات، عقیدے اور مذہب کی بنیاد پر ووٹ نہیں مانگ سکتا۔ اپنے فیصلے میں انھوں نے کہا ہے کہ انتخابات کو ہمیشہ سیکیولر عمل رہنا چاہیے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ سیاسی جماعتوں کو آئندہ انتخابات میں حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ انڈیا سرکاری طور پر سیکیولر ریاست ہے لیکن سیاسی جماعتیں روایتی طور پر امیدواروں کی نامزدگی اور ووٹوں کے حصول کے لیے مذہب اور ذات پات کو معیار کے طور پر استعمال کرتی رہی ہیں۔ اعلیٰ عدالت کا فیصلہ انڈیا کی سب سے گنجان آباد ریاست اترپردیش میں ریاستی انتخابات سے پہلے آیا ہے جہاں مذہب اور ذات پات انتخابی مہم کے دوران عام طور پر سب سے اہم حیثیت حاصل کرتے ہیں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker