بلوچستان لبریشن فرنٹ نے فورسز پر حملوں و مخبر کی ہلاکت کی زمہ داری قبول کر لی

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز)بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یکم نومبر بدھ کے روز ضلع کیچ کے علاقے دشت،جتانی بازارمیں فورسز قافلے کی پکٹ سیکورٹی کے ایک اہلکار کو اسنائپر رائفل سے نشانہ بنا کر ہلاک کیا۔گہرام بلوچ نے ریاستی مخبر کے ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ سرمچاروں نے 24 اکتوبر2017 کو اکرم ولد داد محمد سکنہ نظر آباد کو گرفتار کیا،دوران تفتیش مجرم نے اقبال جرم کرتے ہوئے اپنے گناؤں کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ ظہیر کو سرنڈر کرانے میں وہ اہم کردار تھا ۔اسکے علاوہ قومی مجرم نے کئی آپریشنوں میں ملوث ہونے کے ساتھ بلوچ فرزندوں کی فورسز کے ہاتھوں اغوا و شہادت کا بھی اعتراف کیا۔نظر آباد شہید جلیل ولد اُستاد حبیب،ستار بلوچ سکنہ دشت کی شہادت میں اکرم اور سعید کی نیٹ ورک باقاعدہ ملوث تھی کا اعتراف کیا۔مذکورہ قومی غدار نے اپنے مقامی اور بالائی سطح کے تمام افراد کے نام بھی دئیے،قومی غدار کو کل رات موت کی سزا دیکر ہلاک کیا۔
31 اکتوبر گوادر میں اس وقت دو بی ایم راکٹ فائر کیے جب امن ریلی تقریب کا انعقاد ہو رہا تھا،گہرام بلوچ نے کہا کہ قابض ریاست بھوکھلاہٹ کا شکار ہے اور وہ سی پیک امن حوالے چین و دیگر پاٹنرز کو باور کرانا چاہتا ہے کہ بلوچستان میں امن ہے۔اسی امن ریلی پر سرمچاروں نے بالگتر کے مقام آسانک پر حملہ کیا مگر پہاڑوں کے درمیان اس حملے کی ذکر میڈیا میں نہ لا کر ریاست اس خوش فہمی میں ہے کہ دنیا کو بے وقوف بنایا جا سکتا ہے۔مگر ریاستی امن ریلی سینکڑوں زمینی فوج کے ساتھ پانچ گن شپ ہیلی کاپٹروں کی نگرانی میں گوادر تک لانا یہ ثابت کرچکا ہے کہ یہاں بلوچ قوم کی مرضی کے بغیر کوئی سرمایہ کاری نہیں ہوسکتی۔
گہرام بلوچ نے کہا کہ ضلع آواران کے علاقے گیشکور ہور میں 28 اکتوبر رات سرمچاروں نے آرمی کیمپ پر حملہ کرکے قابض فوج کو بھاری نقصان پہنچایا۔بزداد میں لدھ کے مقام پر قائم آرمی کیمپ کی چوکی پر اسنائپر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک کیا۔
میڈیا بائیکاٹ حوالے ہمارے سرمچاروں نے ضلع کیچ کے علاقوں ،تمپ مند،نظر آباد، پل آباد،بالیچہ،کوہاڈ،رودبن، مند(بلوچ عوام میڈیا بائیکاٹ کے لیے تیار رہے) کے عنوان سے پمفلٹ تقسیم کیا۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close