ایف سی کے خلاف مقدمہ درج نہ کرنے پر شبیر بلوچ کے اہلخانہ کی جانب سے پریس کانفرنس

کوئٹہ(ریپبلکن نیوز)بی ایس او آزاد کے لاپتہ رہنماء شبیر بلوچ کی فیملی کی جانب سے شبیر بلوچ کی اغواء کی ایف آئی آر درج نہ کرنے کے حوالے سے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کیا گیا ۔ اس موقع پر شبیر بلوچ کی اہلیہ کے ہمراہ خاندان کے دیگر افراد اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے رہنماء نصراللہ بلوچ اور ماما قدیر بھی موجود تھے۔ شبیر بلوچ کی فیملی کا پریس کانفرنس نصراللہ بلوچ نے پڑھ کر سنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پریس کانفرنس کے ذریعے شبیر بلوچ کی اغواء کی خبر کو بااختیار لوگوں اور اداروں تک پہنچانا چاہتے ہیں تاکہ ادارے شبیر بلوچ کو سیکیورٹی اداروں کی تحویل سے بازیاب کروائیں۔ شبیر بلوچ ولد عبدالصمد بلوچ ضلع آواران کے علاقے لباچ کے رہائشی اور بی اے کا طالبعلم ہیں۔ وہ ایک سیاسی کارکن بھی ہیں۔شبیر بلوچ کو چار اکتوبر 2016کی صبح بلوچستان ضلع کیچ کے علاقے گورکوپ سے فورسز نے ایک آپریشن کے دوران اسکی بیوی زرینہ بلوچ سمیت گاؤں کے کئی افراد کے سامنے درجن بھر بے گناہ بلوچوں کے ہمراہ آنکھوں پر پٹیاں اور ہاتھ پاؤں باند کر اغواء کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔ شبیر بلوچ کی اغواء کی خبر سن کر انسانی حقوق کے اداروں و لوگوں نے ان کی بازیابی کا مطالبہ کردیا، ایمنسٹی انٹر نیشنل، ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان، ایشین ہیومین رائٹس کمیشن سمیت انسانی حقوق کے ملکی و بین الاقوامی اداروں نے شبیر بلوچ کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا، لیکن آج اس واقعہ کو ایک مہینہ پورا ہونے کو ہے شبیر اب تک لاپتہ ہیں۔ شبیر بلوچ کی خاندان کو بھی ان کے حوالے سے لاعلم رکھا گیا ہے جو کہ ایک غیر قانونی و غیر انسانی فعل ہے۔ 20اکتوبر کوکو شبیر بلوچ کے بیوی نے شبیر کی فیملی لیویز تھانہ تربت کے انچارج تحصیلدار شیرجان دشتی سے ملے اور شبیر کے فورسز کے ہاتھوں غائب کیئے جانے کی ابتدائی رپورٹ FIR درج کرنے کے لئے درخواست دی۔ لیکن اس نے رپورٹ درج کرنے سے انکار دیا ۔ شبیر کی بیوی اپنا درخواست لیکر ڈی سی او کے پاس گئی، تو اس نے ان کو واپس تحصیلدار کے پا س بھیجا۔ لیکن تحصیلدار نے یہ کہتے ہوئے ایف آئی آر درج کرنے سے صاف انکار کیا کہ ہم ایف سی اور آرمی کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کریں گے ۔شبیر کی بیوی کے مطابق تحصیلدار نے ان پر زور دیا کہ وہ ایف آئی آر میں کسی ادارے کو نامزد کرنے کے بجائے اسے نامعلوم افراد کے خلاف درج کروائیں، چونکہ میں خود شبیر کی اغواء کا چشم دید گواہ ہوں، اس لئے میں نے نامعلوم افراد کے بجائے اغواء کرنے والے ادارے کو ہی نامزد کرنے پر اصرار کیا۔ جس پر تحصیلدار نے ایف آئی آر درج نہیں کی۔شبیر بلوچ کی اغواء کا چشم دید گواہ نہ صرف اس کی بیوی ہے بلکہ گاؤں کے سینکڑوں لوگوں سمیت خود ایف سی کے ترجمان کی بیان بھی ان دعوؤں کی تصدیق کررہی ہے جس میں ایف سی گورکوپ سے 26لوگوں کی گرفتاری کا اعتراف کررہے ہیں۔ ریاستی قوانین تمام شہریوں کو یہ حقوق فراہم کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی شخص یا ادارے کے خلاف ایف آئی آر درج کرا سکتے ہیں، لیکن شبیر بلوچ کے اہلخانہ سے یہ حق بھی چھین لیا گیا ہے۔ اس کے بعد شبیر بلوچ کی فیملی نے کراچی پریس کلب کے باہر تین روزہ بھوک ہڑتالی کیمپ منعقد کیا، تین دنوں تک شبیر کی بیوی، بہنیں اور خاندان کے دیگر افراد کھلے آسمان تلے اور شدید گرمی میں کراچی پریس کلب کے باہر بیٹھے رہے، آج اس پریس کانفرنس کے ذریعے شبیر بلوچ کی اہلیہ پوری خاندان کی طرف سے بااختیار اداروں سے اپیل کررہی ہے کہ لاپتہ نوجوان کو بازیاب کرانے میں تمام ادارے کردار ادا کریں۔ ایف سی شبیر بلوچ کی اغواء کے حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، اگر حکومت کے زمہ دار ادارو ں و شخصیات نے بھی اس حوالے سے کوئی کردار ادا نہیں کیا تو خدشہ ہے کہ خدانخواستہ شبیر بلوچ کو بھی حراست میں قتل کیا جائے گا۔ اُن کی آپ میڈیا والوں سے اپیل ہے کہ آپ اس گزارش کو با اختیار اداروں تک پہنچانے میں شبیر بلوچ کے خاندان کی مدد کریں۔امید ہے کہ آپ شبیر بلوچ کے خاندان کا درد محسوس کرکے اس خبر کو با اختیار اداروں تک پہنچائیں گے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker