شہید سالم بلوچ ایک گوریلہ ساتھی

جو چلے تو کوہ و گراں تھے ہم جو رکے تو جان سے گزر گئے 
کوئٹہ/مضمون (ریپبلکن نیوز )  بلوچ قومی تحریک کی حالیہ ابھار ہو یا پھر ماضی کے بے رحم اوراق پر بلوچ جھد کی تاریخ اس میں بلوچستان کے شہر پنجگور کے سیاسی مدبرین, ادیب, اور باغیوں کا ذکر نہ آئے تو یہ تاریخ کے ساتھ کھلواڑ ہوگا -اسی پنجگور سے لالا منیر جیسے ھستیوں نے تحریک کو اپنے خون سے ایندھن فراھم کی وہی شہید قاسم وفا جیسے نوجوان شاعروں نے اسے اپنے اشعار میں قید کرکے اسے تاریخ کے اوراق پر نبشتہ کیا اور استاد حمید جیسے بے غرض گائکوں نے اپنے سریلی آواز سے قوم تک پہنچائی۔
اگر ھم پنجگور میں بلوچ قومی تحریک پر ایک مفصل بحث کا آغاز کریں اور اس بحث میں پروم کا ذکر نہ کریں تو جزبہ آزادی سے سرشار پروم کے نوجوانوں کے ساتھ نا انصافی ہوگی. ان نوجوانوں میں سے ایک نام شہید سالم اُمیت کی ہے جو پیدائش کے چند سال بعد پنجگور بونستان کی جانب اپنے خاندان کے ساتھ کوچ کرگئے اور بونستان میں سکونت اختیار کی. پنجگور میں حالیہ بلوچ تحریک سے متاثر ہوکر اس نوجوان نے بھرپور انداز سے تحریک میں کام کرنا شروع اور قربانیوں کے تسلسل کو برقرار رکھا. اور جس انداز سے تحریک میں اپنے فرائض انجام دیئے وہ شاید کسی نوجوان کیلئے راہ کے چراغ ہوں. سبوتاژ مہم سے لیکر گرنیڈ لانچروں تک کا سفر شہید نے کس طرح طے کیا وہ شہید کے فلسفے پر کار بند کامریڈ بہتر انداز میں بیان کرسکتے ہیں۔
2013 کے طوفانی حالات ہوں اور ریاستی ڈیتھ اسکواڈ اور فوج کی بوکھلاہٹ کے دوران شہروں میں گوریلہ کاروائیاں سر انجام دینا ایک سخت امتحان سے کم نہ ہوگا. اور ایسے حالات میں پنجگور جیسے حساس شہر میں دشمن پر مسلسل وار کرنا اور کامیابی کے ساتھ روپوش ہونا دشمن اور اس کے حواریوں کے آنکھوں میں انگلی ڈالنے کی مترادف ہوگا. مگر اس باہمت نوجوان نے بی ایل اے کی پلیٹ فارم سے لیکر بی آر اے کی پلیٹ فارم تک دشمن پر ایسے وار کیئے جو دشمن کیلئے ضرب کاری ثابت ہوئے اور اپنی دفاع بھی انتہائی ہونہاری کے ساتھ کی یقیناً شہید کی ہونہاری اور شہری گوریلہ جنگ کے معلومات نے دوران عمل سونے پہ سھاگے کا کام کیا. چی جیسے ہستیوں نے شاید تاریخ میں یہ الفاظ (گوریلہ کی بنیادی ذمہ داری تعلیم یافتہ ہونا ہے) اس لیئے چھوڑے تھے کہ شہید سالم جیسے نوجوان ان سے استفادہ کرسکے اور شہید نے دنیا کے گوریلوں کے ساتھ ساتھ چی کے اصولوں سے بھی بھر پور فائدہ اٹھایا اور ھمیشہ کتابوں سے جڑے رہے کبھی تاریخی تو کبھی مقامی رسالوں سے شہید کا واسطہ پڑا۔
شہید سالم پیغمبر آجوئی کامریڈ خیربخش کی اس نصیحت پر عمل پیرا رہے کہ "دن میں عام آدمی بن کے رہو اور رات کی تاریکی میں دشمن پر وار کرو ".یہ شومئی قسمت ہے یا دشمن کی چالاکی کہ اکثر ہمارے مدبر,دور اندیش اور باصلاحیت نوجوان ہی شہید کیئے جاتے ہیں امیرالملک اور سلمان کے زخم ابھی بھرے نہیں تھے کہ دشمن کی نظر بد سالم جیسے ہونہار نوجوان پر پڑی. 23 دسمبر 2014 کے دن آستین کے سانپوں نے اپنے زہر اگل دیئے اور دشمن کی صرف گاڈیوں کے بلیک شیشوں کے پیچھے بیٹھ کر شہید کو اغوا کیا 5 مہینے اور آٹھ دن تک اسے مسلسل تشدد کا نشانہ بناتے رہے اور قومی موقف سے شہید کو دستبردار نہ کرسکے اپنے تمام ہتھکنڈوں کو ناکام دیکھ کر دشمن نے سالم کو ہم سے جدا کرنے کی ٹھان لی اور دو دیگر اسیر بلوچوں کے ھمراہ انکی لاش پتندر میں پھینک اور ایک جعلی مقابلے کا شوشہ کیا مگر دشمن کو یہ کون سمجھائے کے نظریاتی اور فکری لوگ مرتے نہیں امر ہوجاتے ہیں اور سالم بلوچ تحریک آزادی میں امر ہوگئے ہیں اور اب بھی شہید کی فلسفہ آزادی بلوچستان کے چپے چپے میں گردش کر رہا ہے.اینگلز کے وفات پر لینن جس شاعر کے دو اشعار کہے تھے وہ میں شہید سالم جان کیلئے پیش کرتا ہوں. کیا عقل کا چراغ تھا خاموش ہوگیا کیا دل تھا, دھڑکنوں کی تلاطم میں سوگیا۔
تحریر : میرین بلوچ

نوٹ: ریپبلکن نیوز نیٹورک اور اسکی پالیسی کا مضمون یا لکھاری کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ عنوانات

مزید خبریں اسی بارے میں

Close