کیا فیس بک ہماری باتیں بھی سنتی ہے

83fa18f75e8b26baامریکا(ری پبلکن نیوز ) کیا فیس بک صارفین کو ان کی دلچسپی کے اشتہارات دکھانے کے لیے اُن کی باتیں بھی سن سکتی ہے کیونکہ خاتون امریکی پروفیسر کا دعویٰ ہے کہ فیس بک ایپلی کیشن فون کے مائیک کے ذریعے باتیں سننے کی بھی کوشش کرتی ہے۔

تحقیق کے مطابق تمام فیس بک صارفین اوسطاً 14 مرتبہ روزانہ فیس بک کو ضرور دیکھتے ہیں۔ فیس بک ہماری زندگیوں میں اس قدر رچ بس چکی ہے کہ ہمارے قریبی دوستوں سے زیادہ فیس بک ہمیں جانتی ہے۔ ہر کسی کی پسند و ناپسند سے واقف ہونے کی وجہ سے فیس بک کے لیے اپنی تشہیری مہم کو چلانا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ فیس بک ہر صارف کو اس کی پسند کے اشتہار دکھا کر راغب کرنے میں کامیاب رہتی ہے۔ یعنی صارفین کو بالکل درست اشتہار دکھانے کے لیے فیس بک کے لیے بہت ضروری ہے کہ صارفین کے بارے میں زیادہ سے زیادہ اور تازہ ترین معلومات اس کے پاس موجود ہوں۔ آپ کو اندازا بھی نہیں ہو گا کہ ہمارے بارے میں جاننے کے لیے فیس بک کس حد تک جا سکتی ہے۔

امریکا سے تعلق رکھنے والی خاتون پروفیسر کیلی برنس کا کہنا ہے کہ اس وقت لوگ فیس بک اور اپنے فون کے بغیر نہیں رہ سکتے وہ بری طرح اس کے عادی بن چکے ہیں۔ ہم سارا دن با خبر رہنے کے لیے بھی فیس بک کا سہارا لیتے ہیں۔ بظاہر تو ہم فیس بک پر چند پوسٹس کرتے ہیں اور دوسروں کی پوسٹس لائیک کرتے ہیں لیکن فیس بک کے لیے ہماری ساری سرگرمیاں انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ ہمیں بالکل بھی اندازا نہیں کہ فیس بک ہماری کس قدر کڑی نگرانی کر رہی ہے۔ پروفیسر کیلی کے مطابق فیس بک کی ایپلی کیشن کی موجودگی میں تو بولتے ہوئے بھی احتیاط ضروری ہے کیونکہ فیس بک ایپلی کیشن آپ کے اسمارٹ فون کے مائیک سے آپ کی گفتگو بھی سن سکتی ہے۔

فیس بک کی پالیسی کے مطابق آپ کے مائیکروفون کو اس وقت تک استعمال نہیں کیا جاتا جب تک آپ خود اس آپشن کو فعال نہ کریں۔ جب آپ کوئی ٹی وی پروگرام دیکھ رہے ہوتے ہیں یا گانے سن رہے ہوتے ہیں تو اسٹیٹس اپ ڈیٹ کرتے ہوئے آپ کا مائیک سن کر درست پوسٹ کرنے میں مدد دینے کے لیے اس آپشن کو استعمال کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ آپشن فی الحال صرف امریکا میں دستیاب ہے۔

پروفیسر کیلی کا کہنا ہے کہ اس آپشن کے فعال ہونے سے فیس بک آپ کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش بھی کرتی ہے اور آپ کے بولے ہوئے خاص الفاظ کو نوٹ کر لیتی ہے۔ اپنے اس تشویشناک مفروضے کو ثابت کرنے کے لیے پروفیسر کیلی نے مائیکروفون آپشن کو فعال کرنے کے بعد فون کو پاس رکھ کر بات کرنا شروع کی کہ مجھے سفاری بہت پسند ہے، میری خواہش ہے کبھی سفاری دیکھنے افریقہ جاؤں۔ یہ جملے بولنے کے بعد صرف 60 سیکنڈ کے اندر جب انہوں نے اپنی فیس بک ایپلی کیشن کھولی تو پہلی ہی تشہیری پوسٹ سفاری کے بارے میں تھی۔ پروفیسر کیلی نے مزید کہا کہ ہو سکتا ہے یہ محض اتفاق بھی ہو لیکن انٹرنیٹ پر سبھی کی پرائیویسی کو شدید خطرہ لاحق ہے جس سے خبردار رہنے کی اشد ضرورت ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close