راشد حسین کی پاکستان حوالگی کے خلاف ٹویٹر میں مہم چلائی جائیگی

کوئٹہ/رپورٹ(ریپبلکن نیوز) متحدہ عرب امارات میں حراست میں لیے گئے راشد حسین کی رہائی اور پاکستان حوالگی کے خلاف سوشل میڈیا میں مہم چلانے کا اعلان، تمام انسان دوست حضرات سے سوشل میڈیا مہم میں حصہ لینے کی اپیل۔ راشد حسین کون ہے جانیئے اس رپورٹ میں۔

سوشل میڈیا میں سرگرم بلوچ کارکنان کی جانب سے تین فروری بروزِ اتوار رات آٹھ بجے سے گیارہ بجے تک متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ میں حراست میں لیے گئے راشد حسین کی رہائی اور پاکستان حوالگی کے خلاف سوشل میڈیا  میں مہم چلائی جائے گی۔مہم ٹویٹر میں چلائی جائے گی جس میں #ReleaseRashidHussain کے ہیش ٹیگ کو استعمال کیا جائیگا۔

خیال رہے کہ پاکستان کے انسداد دہشتگردی کے محکمہ (سی ٹی ڈی) نے اپنے حالیہ بیان میں موقف اختیار کیا ہے کہ راشد حسین کراچی میں ہونے والے چینی قونصلیٹ حملے کا نا صرف سہولت کار ہے بلکہ بلوچ لبریشن آرمی کا اہم رہنما ہے جس کا فرضی نام عبداللہ ہے۔

مزید رپورٹس:

مسلح تنظیم سے فارغ کردہ گروہ نے کیچ کے رہائشی دو افراد کو ایرانی خفیہ ادارے کے حوالے کردیا

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف بی آر پی لندن کی جانب سے سات روزہ آگاہی مہم کا آغاز

دوسری جانب بلوچ حلقوں کی جانب سے پاکستان انسداد دہشتگردی کے محکمہ کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے، راشد حسین کے اہلخانہ نے بھی سی ٹی ڈی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیکر جھٹلا دیا ہے اور کہا ہے کہ راشد حسین کا کسی بھی تخریبی کاروائی سے تعلق نہیں۔

شارجہ پولیس نے راشد حسین کو حراست میں لے لیا ہے اور سی ٹی ڈی کے بیان کے مطابق راشد حسین کو پاکستان کے حوالے کردیا جائے گا۔ پاکستان حوالگی  کے بعد راشد حسین کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہونگے۔کیونکہ ریاستی ادارے راشد کو چینی قونصلیٹ پر حملے کا سہولت کار اور بلوچ لبریشن آرمی کا اہم رہنما قرار دے چکے ہیں۔

راشد حسین کون ہے؟

راشد حسین کا تعلق بلوچستان کے علاقے زہری سے ہے اور وہ بلوچ قومی تحریک  میں سیاسی حوالے سے متحرک کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ راشد کا خاندان 2010 سے پاکستانی خفیہ اداروں اور ڈیتھ اسکواڈ کے دہشتگردانہ کاروائیوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ راشد حسین کا کزن 14 سالہ مجید زہری کو پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اغوا بعد شہید کردیا تھا۔ مجید زہری کے والد حاجی محمد رمضان  زہری کو بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بناتے ہوئے ریاستی اداروں نے شہید کردیا تھا۔ راشد حسین کا بھائی زہری میں پاکستانی فوج کے ساتھ ایک مقابلے میں شہید ہوگیا تھا۔

پاکستانی مظالم سے تنگ آکر راشد حسین دبئی منتقل ہوگیا تھا لیکن وہاں بھی ریاستی اداروں نے انکا پیچھا نہیں چھوڑا اور متحدہ عرب امارات کے سیکیورٹی اداروں سے 26 دسمبر 2018 کو راشد حسین کو گرفتار کروایا، متحدہ عرب امارات کی پولیس راشد حسین کو کسی بھی وقت پاکستان کے حوالے کرسکتی ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close