مسلح تنظیم سے فارغ کردہ گروہ نے کیچ کے رہائشی دو افراد کو ایرانی خفیہ ادارے کے حوالے کردیا

رپورٹ (ریپبلکن نیوز) کیچ کے رہائشی دو بلوچ نوجوان اغوا کے بعد ایرانی خفیہ ادارے کے حوالے کردئیے گئے۔

ریپبلکن نیوز کی تحقیقاتی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ حالیہ دنوں ایک مسلح تنظیم نے فارغ کئیے جانے والے افراد نے باقائدہ طور پر لوگوں کو اٹھا کر ایران کے حوالے کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

گزشتہ سال دسمبر میں کیچ کے علاقے تمپ سے قدیر ابابگر نامی شخص کے ہمرہ دیگر دو افراد محمد ولد واحد جو کہ مغربی بلوچستان کے غذدر کا رہائشی ہے اورنواب ولد داد بلوچ سکنہ زامران سورانی گٹ بتائے جاتے ہیں کو اغوا کر لیا تھا

اغوا کے کچھ روز بعد قدیر ولد ابابگر کو قتل کردیا گیا اور دیگر دونوں افراد کو ایران کے خفیہ ادارے کے حوالے کیا گیا ہے

زرائع نے آر این آین کی تحقیقاتی ٹیم کو بتایا کہ مغربی بلوچستان کے رہائشی محمد کو بعد میں ایرانی حکام نے رہا کردیا تاہم اس بات کی تصدیق آزاد زرائع سے نہیں ہو سکی ہے جبکہ دوسرا شخص نواب تاحال ایرانی حکام کی تحویل میں ہے۔

بلوچستان میں سرگرم مسلح تنظیموں کے زرائع نے ریپبلکن نیوز کی تحقیقاتی ٹیم کو بتایا کہ مزکورہ لوگوں کو  اس گروہ کی جانب سے اغوا کیا گیا ہے  جن کو گزشتہ سال نومبر میں ایک مسلح تنظیم نے بلوچ تحریک دشمن قوتوں سے ساز باز  اور تنظیم کو غیر ملکی ایجنسیوں کی پراکسی بنانے کی کوششیش کے الزام میں فارغ کردیا تھا۔

عسکری زرائع کا کہنا تھا کہ اس سے قبل مزکورہ گروہ پر سخت تنظیمی اصول اور ںظم و ضبط لاگو تھے جس کی وجہ سے وہ کسی بھی ایسی عمل سے کتراتے تھے۔ مگر تنظیم سے نکالے جانے کے بعد یہ گروہ سرے عام لوگوں کو اٹھا کر بھاری رقوم کے ایوز بیچ رہے ہیں۔

کیچ  کےسیاسی و سماجی حلقوں میں اس بات کو لیکر شدید تشویش پائی جاتی ہے تمپ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے آر این این کی تحقیقاتی کے ٹیم کے زریعے بلوچستان میں مسلح تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف اقدامات اٹھائیں جو نہ صرف علاقائی لوگوں کیلئے مشکلا کا سبب بن رہی ہیں بلکہ بلوچ قومی تحریک کو بھی عوامی سطح پر بد نام کررہے ہیں جس کی وجہ سے عوام میں مایوسی پیدا ہورہی ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Back to top button