طالبان اور افغان افواج میں شدید جھڑپیں ، 100سے زاہد ہلاکتیں 

کابل (ریپبلکن نیوز)افغان صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین پرطالبان کے حملے کے بعد علاقے میں شدید جھڑپیں جاری ہیں، سیکیورٹی فورسز نے باغیوں کے حملے کوپسپا کرتے ہوئے متعدد جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ طالبان کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا کہ سنگین کے مضافات میں واقع 25 سے زائد چوکیوں اور اڈوں پر حملہ کر کے 100 فوجیوں کو ہلاک اور زخمی کر دیا گیا۔ افغان صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین پرطالبان باغیوں کی طرف سے مربوط حملے کے بعد شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ ضلع سنگین میں چھڑنے والی اِس لڑائی کے بارے میں افغان حکام اور باغیوں نے متضاد دعوے کیے ہیں۔ ملک کے 34 صوبوں میں ہلمند سب سے بڑا صوبہ ہے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان عمر زواک نے بتایا کہ باغیوں نے سلامتی اداروں کی چوکیوں پر متعدد بار حملے کیے لیکن افغان افواج نے طالبان کے حملوں کو پسپا کر دیا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ متعدد حملہ آور ہلاک و زخمی ہوئے لیکن یہ نہیں بتایا آیا سرکاری افواج کو بھی کوئی نقصان اٹھانا پڑا۔ طالبان کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا کہ سنگین کے مضافات میں واقع 25 سے زائد چوکیوں اور اڈوں پر جنگجوؤں نے حملہ کیا، جس کے بعد علاقے میں شدید لڑائی جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ طالبان سے تعلق رکھنے والے خودکش بم حملہ آور نے ایک فوجی تنصیب پر حملہ کیا جس کے بعد باغیوں نے علاقے پر دھاوا بول دیا اور 100 سے زائد افغان افواج کو ہلاک و زخمی کیا۔ افغان علاقائی کور کمانڈر جنرل ولی محمد احمدزئی نے بتایا کہ ملحقہ شہری آبادی کے گھروں کو ڈھال بناتے ہوئے طالبان نے ایک فوجی تنصیب کے قریب سے ایک سرنگ بنا رکھی ہے اور اس حملے سے قبل انھوں نے دھماکا خیز مواد رکھ کر اسے دھماکے سے اڑا دیا۔ ہلمند کا زیادہ تر علاقہ طالبان کے کنٹرول میں ہے۔ حکومت کو صرف صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ اور ملحقہ چند اضلاع کے مراکز پر مکمل نٹرول حاصل ہے۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker