2007سے 2016 تک 3785 لوگوں کو لاپتہ کیا گیا۔نصراللہ بلوچ

کوئٹہ (ریپبلکن نیوز )وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ2007 سے لے کر2016 تک 3785 لو گوں کو لاپتہ کیا گیا جن میں سے 1300 سے زائد افراد کی لاشیں ملی ہیں جبکہ اس سال 70 افراد بازیاب ہوئے جن میں سے 10 لوگ ایک سے 3 سال تک لاپتہ رہے اور60 لوگ جو کہ ایک ہفتے رہا ہوئے گزشتہ برس 667 لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لا شوں کے کیسز ہمارے پاس پہنچے جبکہ116 کیسز بذریعہ لاپتہ افراد کے لواحقین سیاسی وانسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا سمیت دیگر ذرائع سے ملے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ 2016 کے دوران جبری گمشدگیوں اور ملنے والی لا شوں سمیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی رپورٹ ملکی وبین الاقوامی سطح پر موثر اقدامات نہ اٹھانے جانے کی وجہ سے بلوچستان میں لو گوں کو لاپتہ کرنے اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمد گی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ اداروں کی جانب سے جاری ہے انہوں نے کہا کہ ادارے اپنی پالیسیوں کے نافذ کے لئے طاقت کا استعمال کرر ہے ہیں جس میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بھی شامل ہے انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے کیسز اعلیٰ عدالتوں میں کئی سالوں سے التواء کا شکار ہے جس کی وجہ سے لواحقین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین اداروں کی جانب سے عدم فراہمی انصاف سے مایوسی کا شکار ہے کہ انہیں کوئی بھی ادارہ تحفظ اور انصاف فراہم نہیں کر رہا اور نہ ہی ان کے پیاروں کو بازیاب کرا رہا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے2010 میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے بنائے گئے کمیشن کی کارکردگی بھی مایوس کن رہی اس سال40 لاپتہ بلوچوں کو کیسز خارج کئے گئے یہ کیسز تین سے پانچ سال سے کمیشن میں زیر غور تھے جس کے شواہد بھی پیش کئے گئے کیونکہ وہ کیسز بھی ہے جن کے شواہد2012 میں سپریم کورٹ کے سامنے آئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسخ شدہ لا شوں اور لو گوں کو اٹھانے میں ادارے ملوث ہے انہوں نے کہا کہ حکومت انسانی حقوق ایسا ادارہ قائم کر کے جو قومی اسمبلی اور سینیٹ سمیت اقوام متحدہ کو پاکستان میں ہونیوالی انسانی حقوق کے حوالے سے رپورٹ پیش کرے انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کے نام سے ادارہ قائم کیا ہے جس کی کارکردگی مایوس کن ہے انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کی سطح پر بھی لاپتہ افراد کے کیسز اور مسخ شدہ لا شوں کی برآمد کے مسئلے کو بھی سرد خانے کے نظر کر دیا گیا اور اس کیس کی صرف2 بار سماعت کی گئی ہے جو لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ زیادتی ہے انہوں نے کہا کہ ادارے بلوچستان میں طاقت کا استعمال کر کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اسے طاقت کی بجائے سیاسی طور پر حل کیا جائے بصورت دیگر حالات خراب ہو نگے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں صوبے میں لاپتہ افراد مسخ شدہ لا شوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے روک تھام میں اپنا موثر کردار ادا کریں۔

مزید خبریں اسی بارے میں

Close